Breaking News

Tuesday, March 20, 2018

غیرملکی آفیشلز اور کھلاڑی سکیورٹی انتظامات پرمطمئن


لاہورپی ایس ایل کیا آئی لاہور میں کرکٹ کی بہار آ گئی۔ عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا، شہر میں جشن کا سماں رہا۔ پی ایس ایل تھری کے پلے آف مرحلے کیلئے لاہور آنے والے غیرملکی آفیشلز اور کھلاڑی سکیورٹی انتظامات پرمطمئن تھے۔ غیر ملکی کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ کے ارکان کا لاہور پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مینٹور سابق عالمی بلے باز سر ویون رچرڈ اور پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی نے تو ایئرپورٹ پر شائقین کیلئے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کروائے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان دوبارہ آکر بہت خوشی ہوئی ہے، پاکستانی شائقین کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹرز کو اپنی ہوم گراﺅنڈ میں کھیلتا دیکھ سکیں اور ان کے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو۔ ویون رچرڈ کا کہنا تھا کہ پاکستان کھیلوں کیلئے محفوظ ملک ہے اور اسکا ثبوت یہ ہے کہ میں اپنی فیملی کے ہمراہ پاکستان آیا ہوں۔ ڈیرن سیمی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مجھے آکر بہت خوشی ہوتی ہے اور پاکستانیوں کی میزبانی اور محبت نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ دنیا کے دیگر غیر ملکی کرکٹرز کو بھی پاکستان آکر میزبانی کا لطف اٹھانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ وہ کئی بار پاکستان آچکے ہیں اس لئے پاکستان میرے لئے اجنبی نہیں ہے۔ آسٹریلوی کرکٹر کرس گرین کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار پاکستان آنے پر بہت پرجوش ہیں۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے رائلی روسو نے شائقین سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ لاہور پہنچنے پر انہیں بہت خوشی ہے۔ میچ سے قبل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے غیرملکی کمنٹیٹرز نے لاہور کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ ویوین رچرڈ اپنی اہلیہ کو اپنے گزشتہ دورہ پاکستان کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کرتے رہے۔ پی ایس ایل کے میچز میں کمنٹری کرنے کے لئے آنے والے برطانوی کمنٹیٹر ایلن ولکنز اور ڈیرن گنگا نے میچ سے قبل اندرون لاہور کی سیر کی۔ انہوں نے تاریخی عمارتیں دیکھیں۔ مسجد وزیر خان اور شاہی حمام کا بھی دورہ کیا۔ غیر ملکی کرکٹرز اور کمنٹیٹرز نے پاکستانی دیسی کھانوں کو بھی بہت پسند کیا۔ ہوٹل میں انہیں انگریزی ناشتہ کے علاوہ لسی، دیسی پائے، مرغ چنے، حلیم، حلوہ پوری کا ناشتہ بھی دیا گیا۔ دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز سابق آل راﺅنڈر ویوین رچرڈ اپنی اہلیہ مشعل کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں اور دونوں نے پاکستانیوں کی بھرپور میزبانی سے لطف اٹھایا۔ وہ لاہور میں اپنی آمد کے دوران بہت خوش نظر آئے۔ پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیموں کے مابین قذافی سٹیڈیم میں میچ سے قبل دونوں ٹیموں نے علیحدہ علیحدہ گراﺅنڈ میں ٹریننگ کی۔ میچ کے دوران سخت سکیورٹی کے باعث لوگوں کو شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگ گھنٹوں پھنسے رہے۔ ماڈل ٹاﺅن، گارڈن ٹاﺅن اور سٹیڈیم کے دیگر نزدیکی علاقوں کے لوگوں کو اپنے گھروں تک جانے کیلئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ پولیس نے جو پلان دیا تھا اس کے مطابق انہوں نے لوگوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی۔ کئی جگہ ایمبولینسوں کو گزرنے میں مسائل کا سامنا بھی رہا۔ پیدل گزرنے والوں کو بالکل بھی کہیں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ تماشائیوں کو کئی جگہوں پر تلاشی دینے کے بعد سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ پشاور زلمی کے تمیم اقبال اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے محمود اللہ بھی گزشتہ روز سری لنکا سے پاکستان پہنچے اور اپنی ٹیموں کو جوائن کیا۔ بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے تمیم اقبال نے اپنی ٹیم کے ساتھ اپنی 29 ویں سالگرہ منائی۔پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی،پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی اور دیگر ساتھی کرکٹرز نے انہیں سالگرہ کی مبارکباد دی۔ پاکستان سپر لیگ تھری کے قذافی سٹیڈیم لاہور میں آج 21مارچ بدھ کو ہونے والے دو سرے میچ میں بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود شائقین کرکٹ کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ بھرپور طریقہ سے میچ دیکھنے کے لئے سٹیڈیم جائیں گے ۔محکمہ موسمیات کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل تھری کے قذافی اسٹیڈیم میں شیڈول دوسرے ایلمینیٹر میچ میں موسم کی مداخلت کا خدشہ ہے۔پی ایس ایل کے قذافی سٹےڈےم میچزکے موقع پر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس نے ایئرپورٹ سے ہوٹل اورہوٹل سے قذافی سٹےدےم تک10 سیف ہا¶سز بنائے گئے ہیں۔ جہاں کسی بھی ناخوشگوارواقعہ پر کھلاڑیوں اور آفیشلز کو منتقل کیا جاسکے گا جبکہ آج بدھ دوسرے مےچ پر بھی سخت سکےورٹی ہو گی۔ پولےس کی 18ہزار نفری کے علاوہ پاک آرمی اور رینجرز کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھےں جبکہ سیف سٹی اتھارٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کے علاوہ ہےلی کاپٹر سے فضائی نگرانی بھی کی گئی ۔ٹیموںکے روٹس پرکیمروں کی مدد سے مانیڑنگ کی گئی جبکہ اس موقع پر پانچ درجاتی سکیورٹی پلان تیار کیاگیاتھا۔چنگ چی، آٹو رکشہ، ایل این جی اور ایل پی جی گاڑیوں کو پارکنگ ایریا میں داخل نہیں ہونے دیا گےا جبکہ گراﺅنڈ میں اسلحہ و تیز دھار آلات بمعہ ماچس ، لائٹر ، آتش گیر مواد اور کھانے پینے کی اشیاءاور بوتلیں لانے کی اجازت نہےں تھی ۔کسی بھی ناخوشگوارواقعہ سے نمٹنے کے لئے کرکٹ میچ کے دوران رےسکےو 1122کی گاڑیاں اور ایمبولینسزبھی الرٹ رہےں جبکہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور عملہ بھی سٹےنڈ بائی تھا۔ نہر میں کشتیوں پر پٹرولنگ کی جاتی رہی جبکہ ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کرتا رہا۔ علاوہ ازےں آج بدھ دوسرے پلے آف میچ کے موقع پر پر بھی انتہائی سخت سکےورٹی ہو گی۔ مارچ میں پاکستان کرکٹ کا مارچ، دو ہزار اٹھارہ کے تیسرے مہینے میں ملک میں پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کے سلسلہ میں تاریخی قذافی سٹیڈیم میں میچ کے دوران اور پہلے وقفے وقفے سے رم جھم ہوتی رہی۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سپر لیگ کے میچز کی تعداد بڑھنے سے بین الاقوامی کرکٹ کے لیے بہت اچھا ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ تمام کریڈٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کو جاتا ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر اکرم رضا کا کہنا تھا کہ لاہور میں ایک اور کرکٹ میلہ سج گیا ہے جس سے دنیا کو بہت اچھا پیغام جائے گا نجم سیٹھی مبارکباد کے مستحق ہیں جو غیر ملکی کھلاڑی وعدہ کر کے پاکستان کھیلنے کے لیے نہیں آئے ان کے ساتھ مستقبل میں سوچ سمجھ کر معاہدہ کیا جائے۔ حکومت اور انتظامی اداروں کی جانب سے بہترین سکیورٹی کے انتظامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ سابق ٹیسٹ کرکٹ رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ہو گئی ہے کراچی میں پی ایس ایل جانے سے مزید ہمارے وینو پر غیر ملکی کھلاڑیوں کا اعتماد بحال ہوگا نجم سیٹھی کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے۔ قذافی سٹیڈیم میں میچ کے اختتام پر دونوں ٹیمیں مقامی ہوٹل پہنچ گئیں۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پی ایس ایل کیلئے نیک تمناﺅں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری دعائیں پی ایس ایل کھیلنے والی تمام ٹیموں اور کھلاڑیوں کے ساتھ ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کی پاکستان میں واپسی قوم کی دیرینہ خواہش ہے۔ پاکستان میں کھیلوں خصوصاً کرکٹ کا فروغ ہماری اولین ترجیحات میں سے ہے اقتدار میں آئے تو کرکٹ ڈھانچہ غیر مضبوط اور کھیل میں مزید نکھار لائیں گے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ سپر لیگ کے میچز کے انعقاد سے پاکستان اورکرکٹ کی جیت جبکہ دہشت گردی کی ہار ہوئی ہے۔ انتظامات کا جائزہ لینے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ سپر لیگ پلے آف میچز کیلئے سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کی ہر طرح سے پڑتال کی گئی ہے اور بہترین انتظامات کئے گئے ہیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot