Breaking News

Tuesday, March 20, 2018

پی ایس ایل : لاہور میں کرکٹ بہار، پشاور زلمی کی آخری بال پر جیت


لاہور پشاور زلمی نے سنسنی خیزمقابلے کے بعد دو مرتبہ پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ایک رن سے شکست دیکر تیسرے پلے آف میچ کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ پشاور زلمی نے پہلے کھیلتے ہوئے تمام کھلاڑیوں کے نقصان پر 157 رنز بنائے جواب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 9 کھلاڑیوں کے نقصان پر 156 رنز بنا سکی۔ تفصیلات کے مطابق قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے دوسرے پہلے آف میچ میں کوئٹہ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ میچ کے دوسرے ہی اوور میں راحت علی کی اٹھتی ہوئی بال کو کھیلنے کی کوشش میں ان سائیڈ ایج لگنے سے بغیر کسی سکور پر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ اس وقت پشاور زلمی کا سکور 9 رنز تھا۔ ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے آندرے ڈیوڈ سٹیفن فلیچر اوپنر کھلاڑی تمیم اقبال کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آئے لیکن وہ زیادہ دیر تک کریز پر نہ رہ سکے۔ تیسرے ہی گیند پر امیر حمزہ کی بال پر بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں پریرا کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ فلیچر صرف ایک رن بنا سکے۔ تمیم اقبال اور محمد حفیظ کے درمیان تیسری وکٹ کی شراکت میں 44 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی جس کا خاتمہ 54 کے ٹوٹل پر اس وقت ہوا جب محمد حفیظ محمود اﷲ کی گیند کو نہ سمجھ سکے اور 25 کے انفرادی سکور پر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ حفیظ نے 14 گیندوں کا سامنا کیا جس میں چار چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ حفیظ کے آوٹ ہونے کے بعد تمیم اقبال بھی 27 کے انفرادی سکور پر محمد نواز کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے پانچ چوکے لگائے۔ لائم ڈاسن کا ساتھ دینے کے لیے سعد نسیم میدان میں آئے۔ سعد نسیم نے 13 گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 9 رنز بنائے۔ پشاور زلمی کا سکور 86 پر پہنچا تو اس موقع پر سعد نسیم حسان خان کو بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں پریرا کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ ڈاسن نے اپنے مخالف سائیڈ سے گرتی وکٹیں دیکھ کر جارحانہ اندار اپنانے کی کوشش کی۔ ساتویں وکٹ کی شراکت میں ڈاسن اور عمید آصف کے درمیان 26 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی جسے 112 کے ٹوٹل سکور پر راحت علی نے اس وقت ختم کیا جب عمید آصف کو راحت علی نے اسد شفیق کے ہاتھوں کیچ آوٹ کر کے پویلین کی راہ دکھا دی۔ دوسری جانب ڈاسن نے 29 گیندوں پر 5 چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے اپنے پچاس رنز مکمل کیے۔ پشاور کی ساتویں وکٹ کپتان ڈیرن سیمی کی گری جو ان فٹ ہونے کے باوجود پلے آف کا میچ کھیلے لیکن وہ صرف 2 رنز ہی بنا سکے انہیں بھی راحت علی نے میر حمزہ کے ہاتھوں کیچ آوٹ کیا۔ اس وقت پشاور زلمی کا سکور 137 رنز تھا۔ اسی اوور میں کوئٹہ کے راحت علی نے پشاور زلمی کی جانب سے نصف سنچری سکور کرنے والے لائم ڈاسن کو بھی 62 کے انفرادی سکور پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آوٹ کر کے پویلین کی راہ دکھا دی۔ ڈاسن نے 35 گیندوں کا سامنا کیا جس میں انہوں نے 6 چوکے اور چار چھکے لگائے۔ وہاب ریاض اور حسن علی کے درمیان نویں وکٹ کی شراکت میں بننے والے 19 رنز کی مدد سے پشاور زلمی کا سکور 156 تک پہنچ گیا اس موقع پر وہاب ریاض 7 گیندوں پر دو چوکوں کی مدد سے 15 رنز بنا کر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ پشاور کی آخری وکٹ حسن علی کی گری انہیں بھی پریرا نے آوٹ کیا۔ پشاور زلمی کی پوری ٹیم 157 کے سکور پر آوٹ ہو گئی۔ حسن علی نے چار رنز بنائے جبکہ سمین گل ایک سکور کے ساتھ ناٹ آوٹ رہے۔ کوئٹہ کی جانب سے باولنگ میں راحت علی سب سے کامیاب باولر رہے جنہوں نے اپنے چار اوورز کے کوٹہ میں 16 رنز دیکر چار کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ پریرا نے 24 رنز کے عوض دو جبکہ محمد نواز، میر حمزہ، حسان خان اور محمود اﷲ نے ایک ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ 158 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ ٹیم کا آغاز اچھا نہ ہوا کیونکہ اننگز کی پہلی ہی گیند پر پشاور زلمی کے حسن علی نے کوئٹہ کے اسد شفیق کو سلپ میں کھڑے ڈیرن سیمی کے ہاتھوں کیچ آوٹ کرا کے پویلین کی راہ دکھا دی۔ ابھرتے ہوئے نوجوان آل راونڈ کھلاڑی محمد نواز کو اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھجوایا گیا۔ جنہوں نے جارحانہ اندار اپنایا جنہوں نے ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے سکور کو 17 تک پہنچایا۔ اس موقع پر کیڈمور جو چار کے انفرادی سکور پر کھیل رہے تھے پشاور زلمی کے حسن علی کی گیند پر وکٹ کیپر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ کیڈمور صرف چار رنز بنا سکے۔ دو وکٹیں جلد گرنے کے بعد کپتان سرفراز احمد خود میدان میں آ گئے جنہوں نے محمد نواز کے ساتھ ملکر تیسری وکٹ کی شراکت میں سکور کو تیزی سے آگے بڑھانا شروع کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے پشاور زلمی کے باولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور چوکوں اور چھکوں کی مدد سے 7.3 اوورز میں 63 رنز بنا کر ٹیم کے سکور کو 80 تک پہنچایا اس موقع پر محمد نواز پشاور زلمی کے سمین گل کی اٹھتی ہوئی بال کو پل شاٹ کھیلنے کی کوشش میں عمید آصف کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے محمد نواز نے 32 گیندوں کا سامنا کیا اور پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 35 رنز بنائے۔ سمین گل کی اگلی ہی گیند پر کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد بھی بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آوٹ ہو گئے۔ ان کا کیچ کامران اکمل نے پکڑا۔ دس اوورز کے خاتمے پر کوئٹہ گیڈی ایٹر کا سکور چار وکٹوں کے نقصان پر 80 رنز تھا۔ اوپر تلے دو وکٹیں گرنے کے بعد روسو اور محمود اﷲ میدان میں اکھٹے ہو گئے۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان پانچوں وکٹ کی شراکت میں 36 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی جس کا خاتمہ عمید آصف نے اس وقت کیا جب محمود اﷲ بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ محمود اﷲ نے تین چوکوں کی مدد سے 19 رنز بنائے۔ اسی اوور میں عمید آصف نے روسو کو بھی حسن علی کے ہاتھوں کیچ آوٹ کر کے اپنی ٹیم کو میچ میں واپسی کرائی۔ روسو 8 رنز بنائے۔ 132 کے سکور پر کوئٹہ کو ساتواں نقصان پریرا کی وکٹ کی صورت میں اٹھانا پڑا جب وہاب ریاض نے انہیں متبادل فیلڈز کرس جورڈن کے ہاتھوں کیچ آوٹ کیا۔ 133 کے ٹوٹل پر وہاب ریاض نے نئے آنے والے بلے باز حسان خان کو بغیر کسی سکور کے وکٹ کیپر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آوٹ کر کے پویلین کی راہ دکھا دی۔ 20 اوورز کے خاتمے پر کوئٹہ ٹیم 9 وکٹوں پر 156 رنز بنا سکی۔ انور علی 14 گیندوں پر تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 28 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے جبکہ نویں وکٹ میر حمزہ کی گری جو بغیر کوئی رن بنائے رن آوٹ ہو گئے۔ پشاور زلمی کی جانب سے باولنگ میں عمید آصف، حسن علی، وہاب ریاض اور سمین گل نے دو دو کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ میچ کا فیصلہ آخری بال پر ہوا، بعض خواتین شائقین رو پڑیں، حسن علی کو 4 اوور میں 21 رنز دیکر دو وکٹیں حاصل کرنے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot