Breaking News

Thursday, March 29, 2018

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کے انکشافات


جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے انکشاف کیا کہ قطری شہزادے کو سوالنامہ بھیجنے کے معاملے پرجے آئی ٹی ممبران میں اتفاق نہ ہوسکا، اتفاق نہ ہونے پرسپریم کورٹ کے پاناما عمل درآمد بنچ کوخط لکھا،رجسٹرارسپریم کورٹ نے فون پربتایا یہ اہم معاملہ ہے،جے آئی ٹی خود فیصلہ کرے،سوالنامہ پراتفاق نہ ہونے پرجے آئی ٹی نے فیصلہ کیا کہ سوالنامہ ابھی نہیں بھیجا جائے گا۔
شریف فیملی کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس پر احتساب عدالت میں سماعت کے دوران واجد ضیاء کے بیان پرنواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کرتے ہوئے واجد ضیاء سے قطری شہزادے سے خط وکتابت پرسوالات کئے۔
واجد ضیاء نے بتایا کہ حمد بن جاسم کو 13 مئی 2017 کو پہلا خط لکھا، خواجہ حارث نے استفسار کیا کہ اس خط میں آپ نے حمد بن جاسم کوجے آئی ٹی میٹنگ میں آنے کا کہا؟ خط میں حمد بن جاسم سے سپریم کورٹ کوپہلے لکھے گئے دوخطوط کی تصدیق کا بھی کہا جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ جی،میں نے ایسا کیا،لیکن اس خط میں مزید رکارڈ اوراضافی دستاویزات جمع کرانے کا بھی کہا تھا۔
خواجہ حارث نے استفسار کیا آپ نے حمد بن جاسم کے دونوں خطوط پڑھنے کے بعد متعلقہ رکارڈ لانے کا کہا تھا؟ واجد ضیاء نے بتایا کہ نہیں،میں نے صرف خطوط کی بنیاد پرنہیں،تمام اضافی دستاویزات لانے کا کہا تھا، متعلقہ اضافی دستاویزات صرف خطوط کی بنیاد پرنہیں مانگی تھیں، مثلاً ورک شیٹ اورٹرانزیکشن کے سپورٹنگ دستاویزات بھی مانگیں۔ اس پر خواجہ حارث نے استفسار کیا کہ مثلاً میں کیا کیا دستاویزات شامل ہیں؟
واجد ضیاء نے کہا کہ کوئی بھی بینکنگ ریکارڈ،خط کا کوئی بھی معاہدہ جوٹرانزیکشن کوسپورٹ کرے۔ خواجہ حارث نے پوچھا کوئی اضافی دستاویزات آپ کے ذہن میں تھیں؟ واجد ضیاء نے کہا کہ نہیں، یہ خصوصی طور پر نہیں،میرا مطلب تمام متعلقہ ریکارڈ سے متعلق تھا، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ہمیں مطلب سے غرض نہیں براہ راست سوال کےجواب چاہئیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot