لاہور: چیف جسٹس نے دہری شہریت کیس میں تحریک انصاف کے رہنما چوہدری سرور کو بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔
سپریم کورٹ نےسینیٹروں کی دہری شہریت کے کیس میں چار نومنتخب سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کا حکم دے رکھا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سینیٹروں کی دہری شہریت ازخود نوٹس کی سماعت جاری ہے۔
سماعت کے موقع پر تحریک انصاف کے رہنما چوہدری سرور نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ وہ 2013 میں برطانوی شہریت چھوڑ چکے ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ شہریت مکمل طورپر چھوڑی یا عارضی طور پر؟
چوہدری سرورکے وکیل نے بتایا کہ برطانوی قانون کےمطابق شہریت دوبارہ بحال کی جا سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے آپ نے گورنر بننے کے لیے عارضی طور پر برطانوی شہریت ترک کی، آپ نے یہاں سیاست کرنی تھی اور اسٹیٹس انجوائے کرکے وقت پورا ہونے پر دوبارہ جا کر شہریت بحال کروانی تھی۔
جسٹس ثاقب نثار نے چوہدری سرور کو ہدایت دی کہ بیان حلفی دیں کہ آپ اب کبھی بھی دوبارہ برطانوی شہریت بحال نہیں کروائیں گے، اگر آپ نے دوبارہ برطانوی شہریت بحال کروائی تو یہ نااہلی بنتی ہے۔