صحافت میں ضیا شاہد میرا آئیڈیل ہے۔ لوگ اس کے خلاف بھی باتیں کرتے ہیں اور اُسے پسند بھی کرتے ہیں یہ پسندیدگی صرف پسندیدگی سے بہتر ہوتی ہے جہاں بھی وہ رہے وہاں کسی کو کوئی نمبر نہیں دیا جاسکتا۔ وہاں بھی نمبرون ضیا شاہد ہی ہوتا، میں موازنہ نہیں کرنا چاہتا مگر آجکل کسی اخبار کا ایڈیٹر ہے کہ اسے ادیب بھی کہا جاسکے۔ ضیا شاہد ہمارے اس معیار پر بھی پور ااترتا ہے۔
ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ وہ ایم اے عربی ہے۔ ایسے آدمی کو تخلیقی کیفیت عطا کی گئی ہو تو وہ کچھ نہ کچھ ادیب ضرور ہوتا ہے مگر شکر ہے کہ ضیا شاہد شاعر نہیں ہے۔ وہ ادب کی دنیا میں نکلتے تو کمال کے ادیب ہوتے۔ آجکل صحافت ، کالم نگاری اور اخبار نویسی اس لئے اتنی مانوس نہیں رہی اور لوگوں کی زیادہ دلچسپی نہیں رہی کہ وہ پڑھ سکے اور جان سکے۔
جو لوگ میڈیا کی مداخلت اور ٹی وی چینلز پر گھنٹے کے بعد وہی پہلے سنی سنائی خبریں دیکھتے ہیں۔ ایک دن میں ہمیں پندرہ بیس مرتبہ وہی پہلے والی خبریں سننی پڑجاتی ہیں۔ مگر یورپ امریکہ میں لوگ آج بھی اخبار پڑھتے ہیں، گھر سے باہر نکلیں تو بلا مبالغہ ہر مرد و عورت کے ہاتھ میں اخبار ہوتا ہے۔
اپنی کتاب میں ضیا شاہد نے اپنے پسندیدہ لکھنے والے کے لئے کسی صحافی کا نام نہیں لیا، بلکہ ایک بڑے افسانہ نگار کرشن چندر کا نام لیا ہے۔ ایسی اچھی نثر میں نے بھی کم ادیبوں کی تحریروں میں دیکھی ہے۔ کرشن چندر کا جو زندہ جملہ ضیا شاہد نے لکھا ہے ۔ ”انسان چاند تک تو پہنچ گیا مگر پڑوسی کے دل تک نہیں پہنچ سکا“۔ ضیا شاہد نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی نہ خوش نصیبوں کی نہ غریبوں کی۔ جو دل میں آیا لکھ دیا۔ کچھ پہلے سفر نامے کو بھی ادبی صنف سخن نہیں کہا جاتا تھا ۔
کئی لوگ ضیا شاہد کا اخبار اس لئے خریدتے تھے کہ آج ضیا شاہد نے کیا لکھا ہے جو دوسرے اخبار نویس نہیں لکھ سکے۔ لوگوں نے وہ بات دل لگا کر پڑھی۔ وہ متنازعہ آدمی بھی رہا ہے، میرا خیال ہے کہ متنازعہ آدمی ہی محبوب آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ محبت ہو اور آدمی اظہار نہ کرسکے۔ محبوب آدمی کے لئے پہچان یہی ہے۔ جس کے خلاف باتیں نہ ہوں وہ بڑا آدمی نہیں ہوتا۔
ضیا شاہد نے جو اسلوب اختیار کیا ہے اس کے ساتھ قافیہ تو محبوب ہے۔ اصل میں ضیا شاہد کی دونوں شاہکار اور شاندار کتابوں کا انداز ایک ہی ہے اور یہ اسلوب ادب اور صحافت کا ایک امتزاج ہے اب وقت آگیا ہے کہ ادب اور صحافت کی سرحدیں رلا ملا دی گئی ہیں کچھ پہلے سفر نامہ کو بھی ادبی صنف سخن نہیں مانا جاتا تھا پھر جب لکھا ہی سفر نامہ جانے لگا۔ جو شخص اپنے گاﺅں سے باہر گیا تو اس نے واپسی پر سفر نامہ لکھ دیا۔ پڑھنے کو کچھ اور رہ ہی نہ گیا تو سفر نامہ کو ادب مان لیا گیا ہے۔ اب تو کالم اور سفر نامے پڑھنے والوں کی بہت دلچسپی ہے سفر نامے سے بھی زیادہ کالم پڑھا جاتا ہے۔ کالم ہر روز کی تحریر ہے۔ اب اس میں بڑے بڑے نام موجود ہیں۔ اقتدار کے مزے لوٹنے والے کچھ ایسے مراعات یافتہ ”ادیب اور کالم نگار“ اپنی کتاب بھی چھپواتے ہیں تو اس میں صرف ان کے کالم چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔
ضیاشاہدآرٹسٹ مزاج آدمی ہیں ان کی کتابوں ”میری صدا بہار تحریریں“ اور ”میرے بہترین کالم“ ان کتابوں کے ٹائٹل اتنے خوبصورت اور بامعنی ہیں کہ میں انہیں دیر تک دیکھتا رہا۔ دونوں کتابوں پر ایک جلتی ہوئی موم بتی نمایاں ہے۔ یہ موم بتی ضیا شاہد کے دل میں بھی جل رہی ہے۔ ضیا صاحب نے اس موم بتی کی روشنی میں لکھا ہے اور کچھ باتیں اس موم بتی سے بھی لکھ دی ہیں۔ ان کی تحریروں میں دونوں چیزیں ہیں۔ روشنی بھی حرارت بھی۔
نجی محفلوں میں وہ لطیفے سناتے ہیں ، سن بھی لیتے ہیں۔ بالخصوص برادرم اسداللہ غالب کے ساتھ ان کی بے تکلفی ہے۔ اس بے تکلفی سے بے چارہ غالب کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ البتہ ضیا شاہد بڑے موڈ میں ہوتے ہیں لوگ ان سے ڈرتے بھی ہیں اور عزت بھی کرتے ہیں ۔ عزت کروانے کے لئے صرف خوف کا ہتھیار کافی نہیں ہے اس کے لئے کچھ اور اوصاف بھی چاہئیں۔ یہ خاصا مشکل کام ہے کہ جلتی ہوئی موم بتی کو قلم میں تبدیل کرلیا جائے۔ یہ ایک انہونی کیفیت ہے۔ نجانے شاہد صاحب اس کیفیت میں سے کتنی بار گزرے ہونگے۔ان کا ایک جملہ دیکھئے اور سوچئے کہ ادب و صحافت میں کتنا فرق رہ گیا۔ ”کسی کو میرا کام نہیں کرنا چاہیئے مگر اسے دیکھنا ضرور چاہیئے“۔ اب اُن کی بات کالم کے آخر میں لکھنا چاہتا ہوں مگر اس کے لئے میں نے دس بارہ بار سوچا۔ میں ضیا شاہد سے کم کم ملا ہوں مگر ان کا اخبار ضرور پڑھتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں ان سے زیادہ مانوس ہوں۔ میری دلی خواہش کہ وہ ایک کتاب بھی لکھیں۔ میں یہ بات بتاﺅں گا کہ کیوں لکھیں۔ جب کتاب چھپ جائے گی، یہ کتاب صرف اور صرف ضیا شاہد لکھ سکتا ہے۔
کالم کے آخر میں ضیا شاہد کے چند جملے لکھ رہاہوں اور سوچ رہا ہوں کہ ان کالموں میں کئی افسانے ہیں مگر ضیا شاہد سے گزارش ہے کہ وہ افسانے نہ لکھنا شروع کردیں، کالم نگاری کو اس مقام تک پہنچا دیں کہ ہر شخص جو اخبار خریدتا ہے وہ کالم ضرور پڑھا کرے۔
ضیا شاہد نے ایک کالم اپنے لئے بھی لکھا ہے۔
”اور میرے پڑھنے والے، جب کبھی میری موت کی خبر ملے آپ سے آپ کی وساطت سے ان لوگوں سے میری منت ہے کہ زندگی میں جانے انجانے میں مجھ سے کوئی گستاخی کوئی زیادتی ہوئی ہوتو خدارا مجھے معاف کردیں۔ اب وہ ظالم وہ جابر وہ بدنام وہ بدعنوان وہ حرام خور جن کے خلاف میں نے حقوق العباد کی خاطر جنگ شروع کررکھی ہے مجھے معاف نہ کریں۔ یہ تو اثاثہ ہے جس کی پوٹلی لے کے میں اپنے گناہوں کے گٹھڑے کے ساتھ اپنے خدا کے حضور پیش ہونا چاہتا ہوں“۔
