وزارت داخلہ نے شریف خاندان کے 5 ارکان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی نیب کی درخواست مسترد کردی۔
نیب کے قابل اعتماد ذرائع نے ڈان نیوز کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت شریف خاندان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر نیب اور وزارت داخلہ میں تنازع شروع ہوگیا۔
قومی احتساب ادارے نے وزارت داخلہ سے نواز شریف، ان کے بیٹے حسن نواز اور حسین نواز، بیٹی مریم صفدر اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست کی تھی۔
اس درخواست کو شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں چلنے والے کرپشن کے کیسز کا فیصلہ آنے سے قبل ان کے ملک چھوڑ کر جانے کے خدشے پر کہا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کو ان افراد کے نام کو ای سی ایل میں ڈالنا تھا لیکن وزارت میں معاملات کو دیکھنے والوں نے شریف خاندان کے بیرون ملک جانے کی بات آنے پر تعاون سے انکار کردیا۔
وزارت کی جانب سے نیب کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ شریف خاندان کا ای سی ایل میں نام صرف عدالت کی درخواست پر ڈالے جائیں گے۔
دوسری جانب نیب حکام نے وزارت داخلہ کے پیش کیے گئے جواز کو تاخیری حربہ قرار دے دیا۔
ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے ماضی میں مشتبہ افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے نیب کی درخواست کبھی مسترد نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وزارت داخلہ نے اس معاملے پر وفاقی کابینہ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ ایڈیشنل سیکریٹری برائے وزارت کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی عدالت، ٹریبونل اور ایجنسیز کی تجاویز پر نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نکالنے کا کام کرتی ہیں۔
وزارت نے فیصلہ کیا ہے کہ کمیٹی سے اس کے ای سی ایل کے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ایک اور ذرائع نے ڈان نیوز کو بتایا کہ اس حوالے سے ایک نئی سمری تیار کرلی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سمری کے منظور ہونے کے بعد صرف وزارت داخلہ یا سیکریٹری کے پاس ای سی ایل میں نام ڈالنے یا نکالنے کے اختیارات ہوں گے۔
تاہم اس سمری کو وفاقی کابینہ میں بھیجا جانا ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب آج پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی اپوزیشن نے نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کیا۔
قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے پنجاب اسمبلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف فیمیلی کا نام فوری ای سی ایل میں ڈالا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرداخلہ احسن اقبال نے اپنے حلف کے پاسداری نہیں کی وہ نواز شریف فیملی کا نام ای سی ایک میں ڈالنے سے گریز کر رہے ہیں، جو ان کی اپنے حلف کی خلاف ورزی ہے۔
اجلاس میں اسپیکر پجاب اسمبلی نے قائد حزب اختلاف کو اس حوالے سے مزید بات کرنے سے روک دیا۔
