اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مالیاتی کھاتوں کے ریکارڈ میں ہیر پھیری میں مبینہ طور پر ملوث سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج آف کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کےسابق چیئرمین ظفر حجازی کی جانب سے دائربریت کی درخواست مسترد کردی۔
یاد رہے کہ پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے الزام عائد کیا تھا کہ چیئرمین ظفر حجازی چوہدری شوگر ملز کے ریکارڈ میں ہیر پھیر میں ملوث ہیں۔
ظفر حجازی نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ایس ای سی پی کے ذمہ داران ماہین فاطمہ، طارق احمد، علی عظیم، طاہر محمود اور عابد حسین نے اپنا دامن بچانے کے لیے ان پر غلط الزام عائد کیے۔
ظفرحجازی نے پٹیشن میں بھی اپیل کی کہ ان کے خلاف ایف آئی آر کالعدم قرار دی جائے جو کہ غیرقانونی ہے۔
خیال رہے کہ 10 نومبر کو ایف آئی اے کی اسپیشل کورٹ کی جج ارم نیازی کے روبرو پیش ہوئے اور ریکارڈ ٹیمپرنگ کیس میں بریت کے لیے درخواست دی تاہم عدالت نے مذکورہ درخواست مسترد کرتے ہوئے خارج کردی اور بعد ازاں ظفر حجازی کے خلاف دائر ریکارڈ ٹیمپرنگ کیس میں ٹرائل شروع کرنے کا حکم جاری کیا۔
یاد رہے کہ پاناما پیپرز کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے مالی معاملات کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے الزام عائد کیا تھا کہ چیئرمین ظفر حجازی چوہدری شوگر ملز کے ریکارڈ میں ہیر پھیر میں ملوث تھے۔
جس کے بعد سپریم کورٹ نے ایس ای سی پی چیئرمین ظفر الحق حجازی پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کرنے اور رپورٹ جمع کرانے کے لیے ایف آئی اے کو ہدایات جاری کی تھیں۔
واضح رہے کہ ظفرحجازی کے خلاف گزشتہ برس 10 جولائی کو مقدمہ درج ہو اور 21 جولائی کو انہیں حراست میں لے لیا گیا بعدازاں 8 اگست سے وہ ضمانت پر ہیں۔
خصوصی عدالت میں ظفر حجازی کے خلاف 27 اکتوبر کو چوہدری شوگر مل کے ریکارڈ سے متعلق ٹمپرنگ کیس میں فرد جرم عائد کی گئی۔
جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایس ای سی پی کے سابق چیئرمین نے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے لیے ماتحت افسران پر دباؤ ڈالا تھا۔
تاہم ظفر حجازی نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کیا۔
ظفر حجازی کے صحت جرم سے انکار کے بعد اب کیس کے با قاعدہ ٹرائل کا آغاز کیا جائے گا۔
