سپریم کورٹ نے بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون بارے تجاویز پر حکومتی رائے مانگ لی ہے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ کو ایک ہفتے میں بھیک مانگنے والے مافیا کوختم کرنے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ مری میں بچے کھلونے بیچنے اور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں, بچوں کے ساتھ بہت براسلوک ہورہاہے ۔ پیرسوہاوہ اور پیرودھائی میں بھی چائلڈ لیبر عروج پر ہے ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے طیبہ تشدد کیس کی سماعت کا آغازکیا تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل چند روز میں مکمل ہو جائے گا۔اس طرح کے ایشوز کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے, بچوں پر تشدد اور گھروں میں ملازمت کو روکنے کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے, ایسےبچوں کا بھی تعلیم بنیادی حق ہے اور ان کو تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ عدالت قانون سازی نہیں کر سکتی۔اس ایشو پرقانون سازی وفاقی یا صوبائی سطح پر ہو سکتی ہے لیکن قانون سازی پر پارلیمان کو مجبور نہیں کر سکتے۔چیف جسٹس نے کہاکہ چاہتے ہیں ملک میں ایک بستہ ایک نصاب اور ایک یونیفارم ہو۔ہمیں تجاویز دی جائیں اس ایشو کو کیسے حل کیا جائے، عاصمہ جہانگیر اس طرح کے معاملات پر بڑی متحرک ہوتی تھیں آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں مجھے بہت دکھ ہے۔اس دوران سوشل ورکر ناہید عبداللہ نے کہاکہ بچوں کے قوانین کو دیکھنے اور ان پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ طیبہ تشدد کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ممکن ہے آئندہ ہفتے تک ہائی کورٹ فیصلہ کردے ۔طاہرہ عبداللہ کیتجاویز اٹارنی جنرل کودے رہے ہیں تاکہ حکومت ان تجاویزپررائے دے ۔ اس دوران سویٹ ہومز کے سربراہ ذمرد خان نے بتایا کہ طیبہ 75دن سویٹ ہوم میں رہی جبکہ چائلڈ لیبر میں بچوں کے والدین اور پورا معاشرہ شامل ہے ,لاوارث اور یتیم بچے ملک کاسب سے بڑامسئلہ ہیں ۔ چیف جسٹس کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مری میں بچے کھلونے بیچنے اور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں , بچوں کے ساتھ بہت براسلوک ہورہاہے ۔ ذمرد خان نے کہاکہ لاوارث اور یتیم بچوں کے لیے قانون ہوناچاہیے ۔ جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت کوتجاویز دے سکتے ہیں اگر آپ کے پاس کوئی مسودہ ہے تو عدالت کو فراہم کریں .اس پر اٹارنی جنرل اور متعلقہ سیکرٹری سے بھی رائے لیں گے. چیف جسٹس نے کہاکہ پیرسوہاوہ اور پیرودھائی میں بھی چائلڈ لیبر عروج پر ہے ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کا کہنا تھا کہ کچہری میں ٹیکسیوں پر بچوں کوبھیک مانگنے کے لیے لایاجاتاہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو معلومات ہیں توکاروائی کریں اسلام آباد انتظامیہ ایک ہفتے میں اس مافیا کوختم کرے ۔سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے کہاکہ بچوں کی ملازمت سے مستقبل تباہ ہوجاتاہے, اس لئے بچوں سے متعلق قوانین پر عمل ہوناچاہیے, انہوں نے قوانین سے متعلق سفارشات پیش کیں ۔ بعد ازاں کیس کی سماعت غیرمدت کے لیے ملتوی کردی گئی ۔
Wednesday, March 14, 2018
Home
Child labour
child sex harassment
Supreme Court
سپریم کورٹ نے بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون بارے تجاویز پر حکومتی رائے مانگ لی
سپریم کورٹ نے بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون بارے تجاویز پر حکومتی رائے مانگ لی
Tags
Child labour#
child sex harassment#
Supreme Court#
Share This
About DGK NEWS (City-64)
Supreme Court
Labels:
Child labour,
child sex harassment,
Supreme Court
Post Top Ad
Your Ad Spot
Author Details
?ً.
