Breaking News

Wednesday, March 28, 2018

سپریم کورٹ ... ججزکے خلاف جوڈیشل ریفرنسز ... درخواستوں پر فیصلہ محفوظ


سپریم کورٹ نے ججزکے خلاف جوڈیشل ریفرنسز کی اوپن سماعت کیلئے دائر درخواستوں میں  فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو مناسب وقت پر سنایا جائے گا ۔ بدھ کو جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ  کے جج جسٹس شوکت عزیز اور جسٹس فرخ عرفان کی درخواست پر سماعت کا آغاز کیا تو جسٹس  فرخ عرفان کے وکیل حامد خان نے مسلسل دوسرے روزدلائل جاری رکھتے  ہوئے کہاکہ اوپن پبلک سماعت میں ججز کو اپنے دفاع کا موقع ملنا چاہیے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ پر نظر ثانی درخواست دائر نہیں ہو سکتی اور کونسل کے فیصلہ کے خلافریلیف کے لیے معزز جج کے پاس کوئی فورم دستیاب نہیں ہے جبکہ اوپن ٹرائل سے شفافیت کو تقویت ملتی ہے۔حامد خان نے کہاکہ معزز ججز نے اپنی عدالت میں مقدمات کی سماعت اوپن کورٹ میں کی۔معزز جج کے خلاف شکایت پر کونسل کی کاروائی کھلی عدالت میں ہونی چاہیے۔ جسٹس عظمت سعیدنے کہاکہ سپریم جوڈیشل کونسل کا ٹرائل خفیہ نہیں ہوتا۔ سپریم جوڈیشلکونسل کے ٹرائل میں صرف عوامی سماعت نہیں ہوتی،جو ثبوت آتے ہیں ان کا کونسل میں جائزہ لیا جاتا ہے اور شواہد کو دیکھ کر فیصلہ پبلک کیا جاتا ہے۔حامد خان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے کیس میں بھی کاروائی ان کیمرا کی گئی  ، ان کاکہنا تھا کہ 5مختلف فیکٹرز پرکاروائی ان کیمراہوسکتی ہے ،عوامی تحفظ کے لیے سماعت ان کیمرا ہوسکتی ہے تاہم اوپن ٹرائل سے عوام کا عدلیہ پراعتماد بڑھتاہے۔ وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ عدالت کہہ چکی ہے کہ کورٹ مارشل ٹرائل بھی اوپنہوناچاہیے ،۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ عدالتی معاونین کی رائے یہی ہے کہ ٹرائل اوپن ہوناچاہیے  اس لئے کونسل کے ٹرائل پر اٹارنی جنرل کاموقف سننا پڑے گا۔ حامد خان نے کہاکہ حکومت کاموقف یہی ہے کہ ٹرائل کھلی عدالت میں ہو ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ کیا عدالت حکومت کے موقف کے پابند ہے ؟واضع کہیں کونسل کے پاس رولز بنانے کااختیارنہیں یا یہ صاف کہہ دیں کونسل جج کے خلاف مس کنڈکٹ کی کاروائی نہیں کرسکتی ۔ایسا فیصلہ نہ کروائیں جو بعد میں مسائل کاسبب بنے ۔ حامد خان نے کہاکہ عدالت کوکسی نامعلوم جگہ پر نہیں لے جاناچاہتا ،عدالت میرے موقف کوسن لے  اورکونسل کو آئین میں رولز بنانے کااختیار نہیں دیاگیا ۔جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ ہم نے آج موجودہ قانون کے مطابق فیصلہکرناہے اگر جوڈیشل کمیشن کے رولز نہیں ہوں گے تو کیا تقرریاں رک جائیں گی؟کیاایسی صورت میں جوڈیشل کمیشن نہیں بنے گا ؟ حامد خان نے کہاکہ ایسی صورت میں انھیں مشکلات ہوں گی جبکہ آئین میں ایک لفظ کی کمی بیشی کا معاملہ پارلیمنٹ کا ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ آپ کاکہناہے کہ جہاں قوانین مرتب کرنے کااختیار دیناتھا آئین نے دے دیا ۔حامد خان نے کہاکہ افتخار چوہدری کیس میں معاملہ ریفرنس بدنیتی پردائرکرنے کاتھا۔کونسل کے ایک ممبر کی رائے دوسرے پر اثرانداز تو ہوتی ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہاکہ اس عمر میں کون کسی دوسرے کااثرلیتاہے میں جتنامرضی چاہوں ساتھ بیٹھے جج اثر نہیں لیتے۔ حامد خان نے کہاکہ اختلافی نوٹ شروع ہونااچھی بات ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ آپ کہتے ہیں رولز نہیں توسب ججوں کواجازت ہوجوچاہے کریں ہم آپ کے موکل کوکام سے نہیں روک سکتے ۔ حامد خان نے کہاکہ جس جج کے خلافکارائی چل رہی ہووہ کونسل کاممبرنہیں بن سکتا ۔حامد خان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے قانونی رائے دیتے ہوئے کہاکہ سپریم جوڈیشل کونسل عدالت نہیں ہے کیونکہ کونسل بنیادی حقوق کاتعین نہیں کرتی  اور کونسل فیصلہنہیں اپنی سفارشات دیتی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک منفرد ادارہ ہے یہ ایک آئینی باڈی ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کونسل کی کاروائی ٹرائل نہیں بلکہ انکوائری ہوتی ہے اس لئے کونسل کی کاروائی پر10-Aکی کاروائی کااطلاق نہیں ہوتا ۔اس دوران حامد خان نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے سماعت کھلی عدالت میں ہو تاہم ہمیں اٹارنی جنرل کے بیان پر تحفظات ہیں کیونکہ اٹارنی جنرل نے حکومتی نہیں ذاتی رائے دی ہےجس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ کیا ہم وزارت قانون کو کہیں کہ اٹارنی جنرل کی جگہ کسی اور کو بھیجیں؟ہمارے پاس اٹارنی جنرل ہی حکومت کے نمائندے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ  زیر سماعت معاملے میں ریفرنس صدر مملکت کی جانب سے نہیں ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے  لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفا ن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حامدخان صاحب ایسی جگہ نہ لیکر جائیں جہاں سے واپسی ممکن ہو۔ عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد جسٹس شوکت صدیقی اور جسٹس فرخ عرفان کی درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا جو مناسب وقت پر سنایا جائے گا ۔

Post Top Ad

Your Ad Spot