سلمان خان کے وکیل نے امید ظاہر کی ہے کہ سلمان خان جیل نہیں جائیں گے اور انہیں 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کے بعد عدالت سے ضمانت مل جائے گی۔
کراچی —
بھارت کی ایک عدالت نے بالی وڈ ایکٹر سلمان خان کو نایاب کالے ہرن کا شکار کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں دو سال قید کی سزا سنادی ہے۔
عدالت نے مقدمے میں نامزد چار دیگر ملزمان اور بالی فن کاروں سیف علی خان، سونالی باندرے، تبو اور نیلم کو الزام ثابت نہ ہونے پر بری کردیا ہے۔
سلمان خان کے خلاف فیصلہ ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور کی عدالت نے جمعرات کی صبح سنایا۔
سلمان خان کے خلاف یہ مقدمہ گزشتہ 20 سال زیرِ سماعت تھا۔ گزشتہ ہفتے جودھ پور کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ دیو کمار کھتری کی عدالت نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور اسے سنانے کے لیے 5 اپریل کی تاریخ مقرر کی تھی۔
دوسری جانب سلمان خان کے وکیل نے امید ظاہر کی ہے کہ سلمان خان جیل نہیں جائیں گے اور انہیں 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کے بعد عدالت سے ضمانت مل جائے گی۔
سلمان خان پر 20 سال قبل راجستھان کے علاقے جودھ پور میں دو نایاب کالے ہرن شکار کرنے کا الزام تھا جس پر ان کے خلاف دائر یہ مقدمہ 1998ء سے زیرِ سماعت تھا۔
سلمان خان کے خلاف مقدمہ وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا جب کہ ان کے خلاف غیر قانونی شکار اور اسلحہ ایکٹ کے تحت چار دیگر مقدمات بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔
واقعے کے وقت سلمان خان فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کی غرض سے جودھ پور میں مقیم تھے اور ان پر الزام تھا کہ وہ اپنی گاڑی میں ساتھی فنکاروں سیف علی خان، نیلم، سونالی باندرے اور تبو کو لے کر شکار پر نکلے تھے۔
