وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ منگھوپیر میں قتل کی گئی بچی کی لاش پر سیاست کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ احتجاج کا جواز ہی نہیں بنتا تھا۔
کراچی میں قتل ہونے والی 7 سالہ بچی رابعہ کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے اورنگی ٹاؤن آمد کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ بچی کی لاش پر سیاست کی گئی اور مظاہرین کی جانب سے لاش کا تقدس برقرار نہیں رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بچی کے اہل خانہ کی جانب سے کہا گیا کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن کچھ عناصر کی جانب سے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے ایس ایس پی غربی کو کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما حلیم عادل شیخ کو آنے دیں پھر بات کی جائے گی اور جب تک وہ نہیں آتے مظاہرہ ختم نہیں کیا جائے گا۔
سہیل انور سیال نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے سڑک پر قبر کھودنے کی کوشش کی گئی اور ایمبولنس کو نقصان پہنچایا گیا تاکہ وہ قبرستان نہیں جاسکے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے لاش پر تماشہ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جبکہ ساتھ ہی اس بات فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کے معاملے کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اگر اس میں کوئی بھی پولیس اہلکار ملوث ہوا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مقتولہ بچی کے دادا عبدالقادر کی درج کرائی گئی ایف آئی آر میں جن افراد نامزد کیا گیا ، جن میں سے 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ ایک شخص روپوش ہے اور ایک نامعلوم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ڈی آئی جی ایڈمن کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے جبکہ بچی کا ڈی این اے بھی کروایا گیا ہے، جس کی رپوٹ آنی باقی ہے، رپورٹ کے بعد جو بے گناہ ہوگا اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
سہیل انور سیال نے مزید بتایا کہ بچی کے قتل پر سیاست کرنے والے اور شرپسندی کرنے والے 6 افراد کو گرفتار کرلیا گیا، جن سے اس معاملے میں مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
