Breaking News

Friday, April 13, 2018

غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کی دُکھ بھری داستان



 از قلم سکندر حیدر۔۔ دی نیشن لاہور
غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کی دُکھ بھری داستان۔۔۔۔
اُن بد کردارں کی کہانی جنہوں نے ذاتی مفادات کی بناپر انڈس انسٹی ٹیوٹ کے نام پر غازی یوینورسٹی کو تباہ کیا ۔۔ قدرت کے انتقام کی بناپر وہ بد کردار انڈس انسٹی ٹیوٹ کو خود تباہ کر بیٹھے۔تما م گیم کا سرغنہ ڈاکٹر نجیب حیدر ملازمت بھی پوری کر گیااور دولت بھی لوٹ گیا ۔ وفاقی وزیر حافظ عبدالکریم سمیت سٹوڈنٹس کو برباد بھی کر گیا۔اب سب ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں مگر اصل چور دامن بچا کر نکل گیا۔۔۔
غازی یونیورسٹی میں حکومت۔۔۔ یونیورسٹی سطح کی سہولیات فراہم کرنے میں برُی طرح ناکام
اساتذہ، سٹودنٹس اور شہری غازی یونیورسٹی کی خستہ حالی سے پریشان اور احتجاج پر مجبور
2014سے تاحال یونیورسٹی بجٹ کی کوئی باقاعدہ منظوری نہیں۔ بس اخراجات من پسند انداز میں کیے جارہے ہیں۔ حتی کہ سابق ٹریژرر (خازن) ڈاکٹر ندیم اقبال نے مالی کریشن کی خاطر ووچرز بلوں پر چارقسم کے دستخط کیے اور اپنے لیے غیر ملکی تعلیمی وظیفہ کی رقم مبلغ 2ملین روپے یکمشت نکال کر کرپشن کی۔ جس کی باقاعدہ انکوئری زیر التو ا ہے۔ 
غازی یونیورسٹی ایکٹ2012کو منظور ہوئے چھ سال بیت چکے ہیں مگر ابھی تک یوینورسٹی فقط سرکاری کاغذات تک محدود ہے۔ پرانے پوسٹ گریجویٹ (ڈگری )کالج کو غازی یونیورسٹی ہی پکارا جا رہا ہے۔ نہ ہی نئی عمارت بن سکی اور نہ ہی نئے سٹاف کو یہاں تعینات کیا جا سکا۔حتی کہ ایک مستقل وائس چانسلر تک تعینات نہیں کیا جاسکا۔ سٹودنٹس نے سٹی کمپس کے باہر احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے۔ جوکہ گذشتہ دو ہفتوں سے تاحال جاری ہے۔ 

احتجاجی سٹوڈنٹس کے حکومتی بے حسی اور یونیورسٹی انتظامیہ کی کرپشن کے خلاف نعرے اور احتجاج جاری ہے مگر کوئی کان دھرنے والا نہیں ہے۔ 
دی نیشن سے گفتگوکرتے ہوئے سٹوڈنٹس نے بتایا کہ 27جنوری 2012کو غازی یونیورسٹی ایکٹ 2012کے تحت حکومت پنجاب نے زرعی کالج فیصل آباد، بی زیڈ یو سب کیمپس، غازی خان میڈیکل کالج اور پوسٹ گریجویٹ کالج ڈیرہ غازی خان کو غازی یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ مگر پنجاب حکومت اِس کو آج تک باقاعدہ یونیورسٹی نہیں بنا سکی۔ فقط کاغذوں میں یونیورسٹی قائم کر دی گئی ہے ورنہ عملی طور پر نئی یونیورسٹی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ 
2014سے 5وائس چانسلر اور 2وی سی کمیٹیاں ایڈیشنل چارج پراِس یونیورسٹی کو چلانے کی خاطر بنائی گئیں۔ مگر سب ناکام ہوئے ہیں۔ صد افسوس۔۔ ایک مستقل وائس چانسلر تعینات نہ ہوسکا۔ 
پروفیسر ڈاکٹر قیصر مشتاق جوکہ اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں اُن کو ایڈیشنل چارج پر 27جون2016سے غازی یونیورسٹی کی وائس چانسلر شپ سونپی ہوئی ہے۔ جس نے آج تک اِس کو یونیورسٹی بنانے کا کبھی سوچا نہیں ہے۔ جو شخص اپنا یہاں دفتر نہیں بنا سکا وہ اِس کو یونیورسٹی کیسے بنائے گا۔ 
دی نیشن سے گفتگو کرتے ہوئے ایک آفیسر نے بتایا کہ اِس وقت 557آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ جبکہ 739کل آسامیاں منظور شدہ ہیں۔ فقط 2پروفیسرز پوری یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ جبکہ پروفیسر کی 24آسامیاں خالی ہیں۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر کی57منظور شدہ آسامیاں، اسٹنٹ پروفیسر کی 89آسامیاں اور لیکچرارکی105آسامیاں تاحال خالی موجود ہیں۔ جبکہ دیگر عملہ کی آسامیاں بھی خالی پڑی ہیں۔ حتی کہ انتظامی امور سے وابستہ اہم ترین پوریشن ، وائس چانسلر، ٹریژرر(خازن)، ڈپٹی خازن، کنٹرولر امتحانات،اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات ، ڈائریکٹر سپورٹس، ٹرانسپورٹ کی آسامیاں 2014سے خالی پڑی ہیں۔ ان پوریشن پر ایڈیشنل چارج سے کام چلایا جا رہا ہے۔
آفیسر نے بتایا کہ اب تک یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے فقط دو اجلاس مورخہ 16فروری 2015اور یکم فروری 2018کو منعقدہ ہوئے ہیں۔ مگر اِن اجلاس کی کاروائی(ایجنڈا) آج تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکی۔ 
آفیسر نے بتایاکہ سابقہ اداروں ،زرعی کالج فیصل آباد، بی زیڈ یو سب کیمپس اور پوسٹ گریجویٹ کالج ڈیرہ غازی خان کے اساتذہ کو ایک درجہ ترقی اور اُن لوگوں کو اِس یونیورسٹی میں ضم کرنا تھا مگر تاحال ایسا نہیں کیا جا سکا۔ بی اے اور ایم اے کے پرائیویٹ طلبا ءکی رجسٹریشن کو آج تک ممکن نہیں بنایا جا سکا۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ آج تک یونیورسٹی بمطابق ایکٹ 2012 اپنے قوانین موضوعہ ہی نہیں بنا سکی۔ 
آفیسر نے بتایا کہ مالی سال 2015-16 ,2014-15،2016-17اور 2017-18کا Revised بجٹ تاحال سنڈیکیٹ سے منظور نہیں کر ایا جاسکا۔ بس اخراجات کیے جار ہے ہیں کوئی ضابطہ نہیں کوئی آڈٹ نہیں۔ ڈاکٹر ندیم اقبال پر کرپشن کے الزامات ہیں مگر اُسے یہاں سے محفوظ راستہ دے کر اسلام آباد روانہ کر دیا گیا ہے۔اُ س نے کرپشن کی خاطر ووچرز بلوں پر چار قسم کے دستخط کیے اور دوملین روپے کی براہ راست کرپشن کی ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot