اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر کا افتتاح 28 مئی، 1986 کو ھوا. اس کی تعمیر میں تقریبًا 11 سال لگے. اس عمارت کو امریکہ کے ایک انجینئیر"ایڈورڈ ڈریٹل سٹون" نے ڈیزائن کیا.
اس کا کل رقبہ تقریبا 598،000 مربع فٹ ہے.اس میں ریسٹورنٹ، بینک، ڈسپینسر، پوسٹ اور ٹیلیگراف کے دفاتر، پی آئی اے بکنگ دفتر اور 450 نمازیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے گراونڈ فلور پر ایک مسجدشامل ھے.
پہلی منزل (مجموعی احاطہ کے علاقے 176،294 مربع فٹ) سینیٹ میں رہنما اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور چیمبرس کے دفاتر اور ہاؤس کے رہنما اور حزب اختلاف کے رہنما کے دفاتر ھیں ۔یہ منزل 14 وفاقی وزراء، سیکریٹری سینیٹ اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے سینئر افسران.کے بھی دفاتر ھیں جو موڈیم پبلک ایڈریس سسٹم سے لیس ہیں.، سینیٹ لائبریری اورکیفیٹریہ بھی اس منزل پر واقع ہیں.
اس کا کل رقبہ تقریبا 598،000 مربع فٹ ہے.اس میں ریسٹورنٹ، بینک، ڈسپینسر، پوسٹ اور ٹیلیگراف کے دفاتر، پی آئی اے بکنگ دفتر اور 450 نمازیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے گراونڈ فلور پر ایک مسجدشامل ھے.
پہلی منزل (مجموعی احاطہ کے علاقے 176،294 مربع فٹ) سینیٹ میں رہنما اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور چیمبرس کے دفاتر اور ہاؤس کے رہنما اور حزب اختلاف کے رہنما کے دفاتر ھیں ۔یہ منزل 14 وفاقی وزراء، سیکریٹری سینیٹ اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے سینئر افسران.کے بھی دفاتر ھیں جو موڈیم پبلک ایڈریس سسٹم سے لیس ہیں.، سینیٹ لائبریری اورکیفیٹریہ بھی اس منزل پر واقع ہیں.
دوسری منزل کا رقبہ 128،134 مربع ہے. قومی اسمبلی اور سینیٹ ہال اس منزل پر واقع ہیں. اس فلور پر وزیر اعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبروں اور 16 وزراء کے دفاتر لائبریری موجود ھے.
تیسری منزل کا رقبہ 58،012 مربع فٹ کا احاطہ کرتا ہے. سینیٹ اور نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ کے کچھ دفاتر اس فلور پر قائم ہیں. پریس لاؤنج اس منزل پر بھی واقع ہے.
چوتھی منزل پر صدر کے چیمبر، ایک کمیٹی کمرہ اور نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ کے دفاتر موجود ہیں. اس کے علاوہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی)، ایسوسی ایٹ پریس آف پاکستان (اے پی پی)، پاکستان پریس انٹرنیشنل (پی پی آئی) )، پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کے دفاتر قائم ھیں۔
