ضلع ڈیرہ غازیخان جنوبی پنجاب کا سب سے اہم ضلع ہے اس ضلع میں تمن داری رواج ابھی تک رائج ہے جو کہ ہر الیکشن میں اثر انداز ہوتا ہے۔ اس ضلع میں پارٹی کا ووٹ بینک تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
جب فاروق لغاری پاکستان پیپلز پارٹی کاحصہ تھے تو پورے ضلع میں پاکستان پیپلز پارٹی سیٹیں جیتتی رہی تھی مگر لغاری سرداروں کے پیپلز پارٹی کو چھوڑ جانے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی پورے ضلع میں کوئی بھی سیٹ نہیں جیت سکی حالانکہ 2013ء کے الیکشن میں پی پی 241 خواجہ غلام نظام المحمود، پی پی پی کے ٹکٹ سے ایم پی اے منتخب ہوئے مگر وہ پی پی پی کے ووٹ بینک سے زیادہ خواجہ شیراز محمود کی وجہ سے الیکشن میں کامیاب ہوئے۔
یہی حال پاکستان مسلم لیگ ن کا ہے۔ 1999ء کے مارشل لاء سے پہلے اور پھر 2010ء تک یہاں پر پاکستان مسلم لیگ ن کیساتھ کھوسہ سردار رہے اور اس لیے مسلم لیگ ن یہاں سے سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی مگر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے نواز شریف سے اختلاف کے بعد مسلم لیگ ن کی سیاست کو ضلع میں دھچکا لگا۔
 2013ء میں اگرچہ مسلم لیگ ن دو قومی اسمبلی کی سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی مگر ان میں امجد فاروق کھوسہ کا ذاتی ووٹ بینک تھا اور حافظ عبدالکریم کو لوگوں نے سرداروں کیخلاف ووٹ دیکر کامیاب کرایا۔
پورے ضلع میں صوبائی اسمبلی کی چھ سیٹیں ہیں مگر مسلم لیگ ن کے حصہ میں کوئی بھی سیٹ نہ آسکی۔
موجودہ صورتحال :۔
2018ء کے الیکشن کی بات کریں تو پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے یہ الیکشن کافی مشکل ہوتا جا رہا ہے ان کی قیادت پر لگے کرپشن کے الزام اور مقامی سطح پر پارٹی کے اندر انتشار مسلم لیگ کے لیے حالات اور بھی مشکل کر رہے ہیں۔
2013ء کے الیکشن کے بعد لغاری سردار مسلم لیگ ن کا حصہ بن گئے اور اس طرح ضلع میں اختیارات کی جنگ شروع ہو گئی۔ 2015ء میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ایک دوسرے کیخلاف الیکشن لڑے۔
ضلع ڈیرہ غازیخان کے چیئرمین کے لیے لغاری سرداروں اور امجد فاروق کھوسہ کے درمیان مقابلہ رہا مگر چیئرمین کا عہدہ امجد فاروق کھوسہ کے بیٹے عبدالقادر کھوسہ کے نام اور لغاری سرداروں کو وائس چیئرمینز کے عہدے دئیے گئے۔
تحصیل تونسہ شریف کی میونسپل کمیٹی کے لیے مسلم لیگ ن کے لیڈر میر بادشاہ قیصرانی نے امجد فاروق کی مخالفت کی اور تحریک انصاف کیساتھ ملکر چیئرمین میونسپل کمیٹی حاصل کی۔
ڈیرہ غازیخان میونسپل کارپوریشن کی بات کریں تو یہاں پر میئر شپ کے لیے ایم این اے عبدالکریم اور ایم پی اے عبدالعلیم شاہ میں مقابلہ ہوا اور عبدالکریم گروپ صرف ایک ووٹ کے فرق سے الیکشن جیت گیا۔ بلدیاتی الیکشن میں مسلم لیگ ن میں اختلافات کھل کر سامنے آئے۔
اگر 2018ء کے الیکشن کی بات کریں تو ٹکٹ کے حوالے سے مسلم لیگ ن کو کافی مشکلات کا سامنا ہے امجد فاروق کھوسہ اس مرتبہ دو سیٹوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں جس سے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے جاوید اختر لُنڈ اور ایم این اے اویس لغاری کو تشویش ہے اور وہ ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔
مگر امجد فاروق کھوسہ پرانے مسلم لیگی ہیں اور ذوالفقار علی کھوسہ کے مسلم لیگ کو چھوڑ جانے کے باوجود پارٹی کیساتھ وفادار رہے اس لیے امکان یہی ہے کہ پارٹی ان کو ترجیح دیگی اور وہ اس سلسلے میں شہباز شریف کو دو سے تین مرتبہ مل بھی چکے ہیں۔
پچھلے الیکشن میں لغاری سردار آزاد الیکشن لڑے اور ایک قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی چار سیٹیں جیت کر مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے۔
اویس لغاری آج کل وفاقی وزیر برائے بجلی ہیں پچھلے مہینے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اس سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے چوٹی زیریں کا دورہ کیا جو کہ لغاری سرداروں کا آبائی علاقہ ہے۔
لغاری سرداروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اس مرتبہ انہیں ترجیح دیگی کیونکہ پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے علاقے کی خوب خدمت کی اور لوگ لغاری سرداروں کی کارکردگی سے خوش ہیں۔
لغاری سرداروں کے مخالف حافظ عبدالکریم اب سینیٹر بن چکے ہیں مگر وہ اپنے بیٹے اُسامہ عبدالکریم کو الیکشن لڑانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ اسی سیٹ سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں جو کہ لغاری سرداروں کی آبائی سیٹ ہے۔
مگر کچھ مقامی صحافیوں کا خیال ہے کہ عبدالکریم کے سینیٹر بننے کے بعد اب وہ الیکشن لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اگر عبدالکریم کے بیٹے یا پھر وہ خود الیکشن لڑے تو پارٹی ان کو ٹکٹ جاری کریگی اور لغاری سردار اس مرتبہ پھر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑینگے یہ تو آنیوالے دنوں میں پتہ چلے گا کہ مسلم لیگ ن کس کو اپنا ٹکٹ جاری کرتی ہے۔
ایک بات تو طے ہے کہ یہ ٹکٹ جس کو بھی ملے الیکشن تمام امیدوار لڑیں گے اور جس کا مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر کو نقصان ہوگا۔
مسلم لیگ ن کے لیے ضروری ہے کہ وہ پارٹی کے اندر کے اختلافات کو بھلا کر الیکشن لڑیں بصورت دیگر پورے ضلع میں ان کو شدید نقصان ہو سکتا ہے۔
پچھلی مرتبہ مسلم لیگ ن کا مقابلہ صرف آزاد گروپ کیساتھ تھا مگر اس مرتبہ آزاد گروپ کیساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کیساتھ بھی ان کا مقابلہ ہوگا۔
 پاکستان تحریک انصاف کی ضلع میں پوزیشن مضبوط ہے اس لیے اگر مسلم لیگ ن کے امیدوار ایک دوسرے کیخلاف الیکشن لڑیں تو پاکستان تحریک انصاف ضلع میں کلین سوئپ کر سکتی ہے۔
اس مرتبہ ضلع ڈیرہ غازیخان میں تین قومی اسمبلی کی سیٹوں کے بجائے چار سیٹیں ہو گئی ہیں اور صوبائی اسمبلی کی بھی سیٹیں چھ سے بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہیں۔
موجودہ صورتحال کے مطابقاین اے 189 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار امجد فاروق کھوسہ کا مقابلہ تحریک انصاف کے خواجہ شیراز اور میر بادشاہ قیصرانی سے ہوگا جو کہ خود مسلم لیگ ن کا حصہ ہیں۔
این اے 190 میں امجد فاروق کھوسہ کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے سابقہ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ سے ہوگا جس کو پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل ہوگی۔
این اے 191 جو کہ شہر کی سیٹ ہے اس پر مسلم لیگ ن کے دو امیدوار الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کی زرتاج گل اور دوست محمد کھوسہ سے ہوگا۔
این اے 192 سے اویس لغاری مسلم لیگ ن کے امیدوار ہونگے اور ان کا مقابلہ ان کے پرانے سیاسی حریف سیف الدین کھوسہ سے ہوگا جو کہ پی ٹی آئی کے امیدوار ہونگے۔