ضلع ڈیرہ غازیخان میں اگر شہر، دیہات اور ٹرائبل ایریا کی ووٹنگ کی بات کریں تو یہ یقیناً پورے پاکستان کی طرح مختلف ہوتی ہے۔
ضلع ڈی جی خان میں تونسہ شریف میونسپل کمیٹی، کوٹ چھٹہ میونسپل کمیٹی اور ڈی جی خان میونسپل کارپوریشن کے رہنے والے ووٹر باقی ضلع سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر کسی بھی امیدوار یا پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔
اگر ہم شہری آبادی کی بات کریں تو ضلع ڈی جی خان میں شہری آبادی زیادہ تر پارٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتی ہے۔
ضلع ڈیرہ غازیخان میں کیونکہ ابھی تک تمنداری نظام رائج ہے اس لیے دیہات کی آبادی اس نظام کے اثر میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتی ہے مگر شہری آبادی پر تمنداری نظام کا اثر تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ تونسہ شریف شہر میں قیصرانی قبیلہ اور بزدار قبیلہ کے زیادہ تر لوگ آباد ہیں مگر قیصرانی قبیلہ اور بزدار قبیلہ کے تمنداروں کو تونسہ شریف شہر سے ہمیشہ ووٹ کم ملتے ہیں با نسبت ان دیہاتوں کے جہاں پر ان قبیلوں کے لوگ آباد ہیں۔
اس کی ایک وجہ تمنداروں کے اثر سے باہر ہونا ہے جیسے جیسے کوئی تمنداروں سے دور ہوتا جاتا ہے اس کا اثر ان لوگوں پر کم ہوتا جاتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے کسی بھی امیدوار کی حماتی اور مخالفت کر سکتے ہیں دیہات میں تھانہ کچہری کی سیاست کی وجہ سے لوگ تمندار کی حمایت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں مگر شہر میں کیونکہ تھانہ کچہری کی سیاست کا زیادہ اثر نہیں ہوتا اس لیے وہاں کے لوگ اپنی رائے دینے میں آزادی محسوس کرتے ہیں۔
تونسہ شریف میں زیادہ تر ووٹ خواجگان کے حصے میں آتا ہے یہاں پر کچھ ووٹ پارٹی کی بنیاد پر بھی دیا جاتا ہے۔
کوٹ چٹھہ شہر میں بھی مقامی تمنداروں کو ووٹ لینے میں ہمیشہ دشواری رہی ہے۔ لغاری سردار کے امیدوار کو یہاں سے ٹف ٹائم ملتا رہا ہے کوٹ چھٹہ کے صوبائی اسمبلی کی سیٹ اگرچہ لغاری سرداروں کے حصہ میں آتی رہی ہے مگر ان کو ووٹ شہر کی نسبت دیہات سے زیادہ ملتا ہے شہر میں ان کے مخالف کوئی بھی امیدوار ہو اس کو لغاری سردار کی نسبت زیادہ ووٹ ملتے ہیں۔
کوٹ چھٹہ میں مقامی چھوٹی قومیں اکٹھا ہو کر کسی بھی ایک امیدوار کے حق میں فیصلہ سناتی ہیں جو کہ لغاری سردار کی مخالفت میں ہوتا ہے۔
ڈیرہ غازیخان شہر تمن کھوسہ اور تمن لغاری میں شامل ہے مگر یہاں پر تمن داری کی بجائے پارٹی کو ووٹ ملتا ہے اگرچہ یہاں سے کھوسہ سردار کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ مگر ان کی یہ کامیابی تمنداری کی وجہ سے نہیں بلکہ پارٹی کے ووٹ بینک کی وجہ سے ملتی رہی ہے۔
لغاری سرداروں کو شہر کے لوگوں نے کبھی بھی ووٹ نہیں دئیے۔ 2013ء کے الیکشن میں لغاری سرداروں کے امیدوار عبدالعلیم شاہ کو شہر سے 22 ہزار ووٹ ملے جو کہ شہر کی شیخ برادری سے تعلق کی بنا پر ملے تھے۔ مگر لغاری سرداروں کے ایم این اے کے امیدوار جمال خان لغاری جو کہ فاروق لغاری کے بعد تمندار بھی ہیں ان کو پانچ ہزار ووٹ ملے۔
شہر میں پارٹی کا ووٹ بینک زیادہ ہے پاکستان تحریک انصاف کے 2013ء میں حاصل کردہ ووٹ بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہر میں صرف اور صرف پارٹی کو ووٹ ملتا ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار زرتاج گل اور اس کے شوہر اخوند ہمایوں رضا کا اپنا ذاتی ووٹ بینک ہے۔
شہر میں جماعتِ اسلامی کا بھی ووٹ بینک ہے اور اس لیے جماعت، اسلامی الیکشن میں یہاں سے اپنا امیدوار کھڑا کرتی ہے اور تقریباً پانچ ہزار کے قریب ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔
شہری آبادی کا ووٹر اس لیے بھی آزادانہ رائے رکھتا ہے کیونکہ اس کا روزگار علاقے کے تمنداروں اور سرداروں کے اثر میں نہیں ہوتا۔ دیہات میں اگر کوئی سرکاری ملازم ہے تو اس کو کسی اور جگہ تبادلہ کرانے کی دھمکی دے کر اس کی برادری کے ووٹ اپنے حق میں ڈلوائے جاتے ہیں۔
اگر کوئی چھوٹا زمیندار ہے تو اس کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی دھمکی یا پھر اپنے پالتو بد معاشوں کے ذریعے چوری اور ڈکیتی کے ذریعے اپنا اثر رکھتے ہیں۔ دیہات میں ووٹ برادری سسٹم کی وجہ سے پوری برادری کے ووٹ ایک ہی امیدوار کو ملتے ہیں مگر شہر میں ان تمام چیزوں سے اور ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ووٹر اپنا حق رائے دہی آزادانہ طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
2018ء کا الیکشن قریب ہے اور ضلع ڈیرہ غازیخان میں بھی الیکشن کی تیاریاں جاری ہیں۔
2013ء کی نسبت 2018ء میں زیادہ تر لوگ شہروں کی طرف ہجرت کر چکے ہیں دیہاتوں کی آبادی تقریباً تیس فیصد کے قریب شہروں میں آبادی ہو چکی ہے اس لیے 2018ء کے الیکشن میں ان امیدواروں کو پریشانی لاحق ہے جو صرف تمنداری اور برادری سسٹم کی وجہ سے کامیاب ہوتے آئے ہیں۔
شہر میں پارٹی کے ٹکٹ یافتہ امیدواروں کے لیے فائدہ ہوگا کیونکہ بہت سے لوگ ابھی سے ذہن بنا چکے ہیں کہ کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے۔
