لغاری سرداروں کو شہر کے لوگوں نے کبھی بھی ووٹ نہیں دئیے۔ 2013ء کے الیکشن میں لغاری سرداروں کے امیدوار عبدالعلیم شاہ کو شہر سے 22 ہزار ووٹ ملے جو کہ شہر کی شیخ برادری سے تعلق کی بنا پر ملے تھے۔ مگر لغاری سرداروں کے ایم این اے کے امیدوار جمال خان لغاری جو کہ فاروق لغاری کے بعد تمندار بھی ہیں ان کو پانچ ہزار ووٹ ملے۔
شہر میں پارٹی کا ووٹ بینک زیادہ ہے پاکستان تحریک انصاف کے 2013ء میں حاصل کردہ ووٹ بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہر میں صرف اور صرف پارٹی کو ووٹ ملتا ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار زرتاج گل اور اس کے شوہر اخوند ہمایوں رضا کا اپنا ذاتی ووٹ بینک ہے۔
شہر میں جماعتِ اسلامی کا بھی ووٹ بینک ہے اور اس لیے جماعت، اسلامی الیکشن میں یہاں سے اپنا امیدوار کھڑا کرتی ہے اور تقریباً پانچ ہزار کے قریب ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔
شہری آبادی کا ووٹر اس لیے بھی آزادانہ رائے رکھتا ہے کیونکہ اس کا روزگار علاقے کے تمنداروں اور سرداروں کے اثر میں نہیں ہوتا۔ دیہات میں اگر کوئی سرکاری ملازم ہے تو اس کو کسی اور جگہ تبادلہ کرانے کی دھمکی دے کر اس کی برادری کے ووٹ اپنے حق میں ڈلوائے جاتے ہیں۔
اگر کوئی چھوٹا زمیندار ہے تو اس کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی دھمکی یا پھر اپنے پالتو بد معاشوں کے ذریعے چوری اور ڈکیتی کے ذریعے اپنا اثر رکھتے ہیں۔ دیہات میں ووٹ برادری سسٹم کی وجہ سے پوری برادری کے ووٹ ایک ہی امیدوار کو ملتے ہیں مگر شہر میں ان تمام چیزوں سے اور ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ووٹر اپنا حق رائے دہی آزادانہ طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
2018ء کا الیکشن قریب ہے اور ضلع ڈیرہ غازیخان میں بھی الیکشن کی تیاریاں جاری ہیں۔
 2013ء کی نسبت 2018ء میں زیادہ تر لوگ شہروں کی طرف ہجرت کر چکے ہیں دیہاتوں کی آبادی تقریباً تیس فیصد کے قریب شہروں میں آبادی ہو چکی ہے اس لیے 2018ء کے الیکشن میں ان امیدواروں کو پریشانی لاحق ہے جو صرف تمنداری اور برادری سسٹم کی وجہ سے کامیاب ہوتے آئے ہیں۔
شہر میں پارٹی کے ٹکٹ یافتہ امیدواروں کے لیے فائدہ ہوگا کیونکہ بہت سے لوگ ابھی سے ذہن بنا چکے ہیں کہ کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے۔