ن لیگ کے امیدوار سید عبدالعلیم شاہ ہیں جو پہلے دو مرتبہ ایم پی اے رہ چُکے ہیں اس مرتبہ وہ دوبارہ لغاری سرداروں کے ساتھ اتحاد کر چُکے ہیں  ن لیگ کا نظریاتی ووٹ، شہر میں ان کا اپنا حمایتی ووٹ اور ساتھ لغاری گروپ کا ووٹ ان کے لیے کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔
اس حلقے پر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار شیخ عثمان فاروق بھی موجود ہیں جو گزشتہ انتخابات میں بھی ہزاروں ووٹ لیتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ مذہبی پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔ ان کے ووٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ چار پانچ ہزار ووٹ دوسرے امیدواروں کی فتح اور شکست میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔
اس حلقے کی دوسری  صوبائی نشست 290 پر حافظ عبدالکریم کے بیٹے اُسامہ عبدالکریم   نئے اتحاد کے ساتھ میدان میں ہیں۔
حافظ عبدالکریم نے اپنے دور میں شہر میں تو سماجی کام کیے لیکن ان علاقوں میں حافظ گروپ کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ اس کے علاوہ  حافظ عبدالکریم کے لیے انڈس یونیورسٹی سکینڈل بھی منفی اثرات چھوڑ گیا ہے۔
پی پی 290 شہر سے باہر قبائلی پٹی پر واقع ہے جہاں ان کے مدمقابل ن لیگ کے سردار  احمد خان لغاری ہیں۔ اس قبائلی پٹی میں فورٹ منرو، سخی سرور، چوٹی بالا ، کوٹ چھُٹہ کی چند علاقے اور ان کے مضافات شامل ہیں۔
پی پی 290 کے حلقے میں لغاری سرداروں  کا ووٹ بنک زیادہ ہے۔  اس لیے سردار احمد خان لغاری  آسانی سے کسی دوسرے کو سیٹ نہیں دینے والے۔
اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کے سردار احمد خان دریشک امیدوار ہیں جو سابق ایم پی اے بھی رہ چُکے ہیں۔ لیکن اس حلقے میں ان کا ووٹ بنک صرف تحریک انصاف کا نظریاتی موجود ہے لیکن سرادری نظام کے تحت جو ووٹ ہے وہ ان کے پاس اس حلقے میں موجود نہیں، البتہ جن علاقون میں ان کی گزشتہ دور میں کارکردگی رہی وہاں سے ووٹ مل سکتا ہے۔
ڈیرہ غازی خان کی اس نشست پر کافی  سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے  اور ابھی تک جو صورتحال سامنے آئی ہے اس سے عام ووٹر کافی مایوسی کا شکار ہوا ہے۔ کیونکہ ان حلقوں میں پارٹی اور نظریاتی ووٹوں کی اہمیت دینے کی بجائے حصول اقتدار کے لیے سب کوششیں جاری رکھی گئی ہیں۔ اس وقت سب سے  زیادہ کنفیوز نظریاتی ووٹر ہے جس نے 25 جولائی کو فیصلہ کرنا ہے۔