پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر ناراض سابق وفاقی وزیر و سینٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے بھی آخری وقت میں پارٹی سے بغاوت کر دی، ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کا بیٹا پی پی 290 جیپ کے نشان پر مسلم لیگ ن کے امیدوار کا مقابلہ کر رہا ہے۔
مسلم لیگ ن کے خلاف اس سیاسی اتحاد میں سردار دوست محمد کھوسہ اور حافظ عبدالکریم گروپ شامل ہیں۔
اس حلقے میں ہی دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے بیٹے اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے خلاف جیپ کے نشان پر الیکشن لڑ رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والا اتحاد بھی ن لیگ کے باغی رہنما حافظ عبدالکریم کا ہے۔
مقامی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حافظ عبدالکریم نے ن لیگ کے خلاف اس لیے بغاوت کی کیونکہ ن لیگ نے تمام ٹکٹیں لغاری سرداروں کو تھما دیں اور حافظ عبدالکریم کو ایک ٹکٹ بھی نہیں دی گئی نہ ان کی مرضی سے کسی کو دی گئی ہے۔
اس نشست پر سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ یہ ایک تو شہر کا حلقہ ہے دوسرا یہ کہ یہاں پر تمام دھڑے اپنی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
ن لیگ کے ٹکٹ پر سردار اویس احمد خان لغاری موجود ہیں۔ پی ٹی ائی کے ٹکٹ پر یہاں زرتاج گل مقابلہ کر رہی ہیں جو اچھا ووٹ بینک رکھتی ہیں۔
اس حوالے سے سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست کھوسہ اور پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر ناراض لیگی سینٹر سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کے صاحبزادے اسامہ عبدالکریم نے کھوسہ ہاؤس میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا سیاسی اتحاد جیپ کے مشترکہ نشان پر آزاد حثیت سے قومی اسمبلی کے حلقہ 191 اور دو صوبائی حلقوں پی پی 289 اور 290 سے الیکشن لڑے گا۔
یاد رہے کہ این اے 191 اور پی پی 289 پر سردار دوست خود مقابلہ کر رہے ہیں۔
نجی ٹی وی سے منسلک صحافی طارق بلوچ کا کہنا ہے کہ شہر کے حلقے میں ن لیگ کا نظریاتی ووٹ بینک موجود ہے جو سردار اویس لغاری کے پلڑے میں جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ سردار دوست محمد کھوسہ کو قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر صرف وہی ووٹ ملے گا جو کھوسہ گروپ سے ہمدردی کی صورت میں یا حافظ عبدالکریم گروپ اور ان کی جماعت کا مذہبی ووٹ مل سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کہ چند یونین چئیرمین اس اتحاد میں شامل ہیں لیکن عام ووٹرز کس طرح ان چئیرمین کی حمایت میں ووٹ دے سکتے ہیں یہ کہنا غلط ہوگا۔
سردار دوست محمد کھوسہ کے مقابلے پاکستان تحریک انصاف کی مضبوط امیدوار زرتاج گُل ہیں جنہیں پی ٹی آئی کا نظریاتی ووٹ بنک ضرور ملے گا لیکن اگر سردار ذولفقار علی خان کھوسہ پارٹی کی ترجمانی کر دیں تو زرتاج گُل کا ووٹ بڑھ سکتا ہے۔
این اے 191 کی صوبائی نشست پر پی پی 289 پر دوست محمد خان کھوسہ خود امیدوار ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حلقے پر مقابلہ سخت ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ پی پی 289 پر امیدوار ہیں۔ ڈاکٹر شاہینہ سماجی اور ادبی حوالے سے اپنی پہچان رکھتی ہیں۔ سیاسی طور پر بھی وہ پرانی ورکر ہیں لیکن انتخابات میں مقابلہ کرنا اُن کے لیے کڑا امتحان ہے۔
مقامی کاروباری شخصیت حنیف پتافی بھی تحریک انصاف کی ٹکٹ کے لیے سرجوڑ کوشش کرتے رہے لیکن انہیں ٹکٹ نہ مل سکی جس کے بعد وہ آزاد حیثیت سے بالٹی کے نشان پر لڑ رہے ہیں جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اشتہارات میں تحریک انصاف کا حمایت یافتہ امیدوار لکھا ہوا ہے۔
ن لیگ کے امیدوار سید عبدالعلیم شاہ ہیں جو پہلے دو مرتبہ ایم پی اے رہ چُکے ہیں اس مرتبہ وہ دوبارہ لغاری سرداروں کے ساتھ اتحاد کر چُکے ہیں ن لیگ کا نظریاتی ووٹ، شہر میں ان کا اپنا حمایتی ووٹ اور ساتھ لغاری گروپ کا ووٹ ان کے لیے کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔
اس حلقے پر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار شیخ عثمان فاروق بھی موجود ہیں جو گزشتہ انتخابات میں بھی ہزاروں ووٹ لیتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ مذہبی پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔ ان کے ووٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ چار پانچ ہزار ووٹ دوسرے امیدواروں کی فتح اور شکست میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔
اس حلقے کی دوسری صوبائی نشست 290 پر حافظ عبدالکریم کے بیٹے اُسامہ عبدالکریم نئے اتحاد کے ساتھ میدان میں ہیں۔
حافظ عبدالکریم نے اپنے دور میں شہر میں تو سماجی کام کیے لیکن ان علاقوں میں حافظ گروپ کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ اس کے علاوہ حافظ عبدالکریم کے لیے انڈس یونیورسٹی سکینڈل بھی منفی اثرات چھوڑ گیا ہے۔
پی پی 290 شہر سے باہر قبائلی پٹی پر واقع ہے جہاں ان کے مدمقابل ن لیگ کے سردار احمد خان لغاری ہیں۔ اس قبائلی پٹی میں فورٹ منرو، سخی سرور، چوٹی بالا ، کوٹ چھُٹہ کی چند علاقے اور ان کے مضافات شامل ہیں۔
پی پی 290 کے حلقے میں لغاری سرداروں کا ووٹ بنک زیادہ ہے۔ اس لیے سردار احمد خان لغاری آسانی سے کسی دوسرے کو سیٹ نہیں دینے والے۔
اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کے سردار احمد خان دریشک امیدوار ہیں جو سابق ایم پی اے بھی رہ چُکے ہیں۔ لیکن اس حلقے میں ان کا ووٹ بنک صرف تحریک انصاف کا نظریاتی موجود ہے لیکن سرادری نظام کے تحت جو ووٹ ہے وہ ان کے پاس اس حلقے میں موجود نہیں، البتہ جن علاقون میں ان کی گزشتہ دور میں کارکردگی رہی وہاں سے ووٹ مل سکتا ہے۔
ڈیرہ غازی خان کی اس نشست پر کافی سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے اور ابھی تک جو صورتحال سامنے آئی ہے اس سے عام ووٹر کافی مایوسی کا شکار ہوا ہے۔ کیونکہ ان حلقوں میں پارٹی اور نظریاتی ووٹوں کی اہمیت دینے کی بجائے حصول اقتدار کے لیے سب کوششیں جاری رکھی گئی ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ کنفیوز نظریاتی ووٹر ہے جس نے 25 جولائی کو فیصلہ کرنا ہے۔


