Breaking News

Saturday, March 03, 2018

ایک سیاسی مقابلہ اور تین کھلاڑی



سیدھی سیدھی بات ہے کہ نواز شریف کو لوگوں نے انہیں ”غیرسیاسی“ کر دئیے جانے کے بعد بھی انہیں قبول کیا۔ انہوں نے عدلیہ کے خلاف بھی کھلم کھلا باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ ایک ایسا سیاسی رویہ ہے کہ جو اداروں کو تباہ کر سکتا ہے۔ ان کی تقریریں سنی گئیں اور ان کی تلخ نوائی کو نظرانداز کیا گیا۔ عدلیہ کے خلاف ان کی سخت باتوں کو بھی سن لیا گیا۔ 
اس سے پہلے سیاستدان فوج کے خلاف باتیں کیا کرتے تھے۔ اب عدلیہ کے خلاف باتیں ہونے لگ پڑی ہیں۔ یہ باتیں زیادہ پسندیدہ عام طور پر اور خاص طور پر اچھی نہیں سمجھی گئیں۔ فوج کے خلاف باتیں بھی اقتدار کی خواہش اور کوشش میں ہوتی رہی ہیں۔ 
نواز شریف نے ہر سیاسی جلسہ میں مریم نواز کو ساتھ ساتھ لے کے جانے کی روٹین شروع کر دی جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ انہوں نے مریم نواز کو اپنا جانشین بنا لیا ہے۔ نواز شریف نااہل نہ ہوتے تو مریم نواز کی جانشینی میں شاید اتنے مسائل نہ آتے۔ 
مریم نواز کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں مگر لوگ انہیں بے نظیر بھٹو کا متبادل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور یہ سچ ہے کہ پاکستان کی کوئی عورت دور دور دکھائی نہیں دیتی جسے ہم پی پی کے مقابلے میں لا سکیں۔ 
مریم نواز میں بڑی صلاحیتیں ہیں مگر وہ جلد بازی سے کام نہ لیں۔ سیاست میں آہستگی اور مسلسل کارکردگی بہت ضروری ہے۔ ایک لیڈر کی بیٹی ہونے کی حیثیت بھی ایک صلاحیت ہمارے ملک میں سمجھی جاتی ہے اور اس کے نتائج سامنے آتے رہے ہیں۔ 
ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کو لوگوں نے دل و جان سے قبول کیا مگر انہوں نے اس مقام کے لیے جدوجہد بھی کی اور مقبول لیڈر بن گئیں، جیل کاٹی، لاٹھیاں کھائیں اور سختیاں برداشت کیں۔ اس طرح کا ایک موازنہ بھی پھیلایا جا رہا ہے۔ یہ جینوئن بھی ہے مگر جو حیثیت محمد نواز شریف کی ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں سامنے آتی ہے۔ اسی طرح کی حیثیت یا اس سے کچھ زیادہ حیثیت مریم نواز کی ہے۔ 
مریم نواز اچھا بولتی ہے۔ دلیر ہے۔ اس میں قیادت کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ ابھی اسے کچھ انتظار کرنا چاہیے۔ مگر ہمارے ملک میں انتظار پر کوئی اعتبار نہیں کرتا؟ جبکہ صبر کا اجر بہت بے پناہ ہوتا ہے۔ 
جب سے نواز شریف نے شہباز شریف کو قائم مقام صدر آخر کار تسلیم کیا ہے اور خود وہ قائد اعلیٰ بنے ہیں تو لگتا ہے کہ حالات بگڑیں گے نہیں البتہ اب بھی مخالفین اس صورتحال کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے۔ شہباز شریف نے ہمیشہ اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو اپنا قائد تسلیم کیا ہے اور کسی بھی پالیسی اور فیصلے میں نواز شریف کی رائے کو وہی اہمیت حاصل ہے جو اپنی زندگی میں بڑے میاں صاحب میاں محمد شریف کو حاصل تھی۔ 
نواز شریف کے مکمل نااہل ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے سیاسی حلقوں میں چے مے گوئیاں ہونے لگی ہیں۔ ابھی صورتحال کچھ سنبھل گئی ہے اور اس میں مجھے مریم نواز کی کوششیں بھی نظر آتی ہیں۔ 
جس طرح وہ اپنے چچا سے گلے مل رہی ہیں۔ ایسا منظر پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔
چودھری نثار کے رویے میں ایک تسلسل نظر آتا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اب تو نواز شریف کے کچھ بیانات اور چودھری نثار کے لیے شہباز شریف کے رویہ کی جھلک بہت خطرناک ہے۔ جسے عام لوگ بھی محسوس کر رہے ہیں۔ شاید یہ منظر نامہ عارضی اور وقتی ہو۔ البتہ چودھری صاحب مریم نواز کو اپنا لیڈر بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ 
بظاہر لگتا ہے کہ جیسے شریف خاندان متحد ہو گیا ہو اور چودھری نثار اکیلے رہ گئے ہوں مگر چودھری صاحب کی ن لیگ میں موجودگی ایک نظر نہ آنے والی سیاسی آسودگی کی طرح ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جس دن چودھری نثار ن لیگ میں نہ رہے۔ اس وقت ن لیگ کے ساتھ کچھ دوسرا ہندسہ لگانا پڑے گا۔ اب بھی شاید شہباز شریف اور چودھری نثار نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی ہو مگر ایک دفعہ یہ صورتحال کھل کر سامنے آئے گی اور ایک سیاسی تماشا ضرور لگے گا۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ نواز شریف کے سخت اور غیردوستانہ رویے سے چودھری نثار دل گرفتہ نہ ہوئے ہوں گے۔ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کو اپنا لیڈر مانتے ہیں مگر مریم نواز کے لیڈر بننے میں ا نکے کچھ تحفظات ہیں جو ان کی دانست میں بالکل جائز ہیں۔ 
مورثی سیاست کا کبھی تو خاتمہ ہو۔ ہماری سب جماعتوں میں مورثی اور خاندانی سیاست کا تسلسل چل رہا ہے۔ جماعت اسلامی آغاز ہی سے سیاسی بے انصافیوں کے خلاف ہے۔ سید مودودی کے بعد میاں طفیل کا امیر جماعت بن جانا ایک بہت بڑی مثال ہے اور اس سے جماعت کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ جماعت اسلامی آج بھی ہے اور کئی لوگ اسے واحد پاکستانی سیاسی جماعت سمجھتے ہیں۔ تحریک انصاف میں ”موروثی“ بے انصافیاں شروع ہونے والی ہیں۔ 
مسلم لیگ ن والوں کو سمجھنا چاہیے کہ اب حروف ابجد میں بہت سے حرف ہیں یہ کس کی بصیرت ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ش) نہیں بنی۔ 
چودھری نثار ن لیگ میں واحد بے لوث اور بے خوف لیڈر ہیں جو موروثی سیاست سے نجات میں پاکستانی سیاست کی بقا سمجھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بڑے سیاسی فیصلے کرنے کے لیے چودھری نثار کو ضرور شریک کیا جائے۔ عباسی صاحب میرے وزیراعظم ہیں مگر میری خواہش تھی کہ چودھری نثار وزیراعظم ہوتے تو لگ پتہ جاتا کہ وزیراعظم کیا ہوتا ہے۔ انہیں وزیراعظم نہ بنانے میں یہی راز ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot