Breaking News

Saturday, March 03, 2018

سینیٹ انتخابات غیر سرکاری نتائج: (ن)لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار سب سے آگے


سینیٹ انتخابات 2018 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں نے پنجاب، اسلام آباد اور فاٹا سے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔
اسلام آباد سے جنرل نشست پر مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ اسد جونیجو اور ٹیکنوکریٹ کی نسشت پر حال ہی میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے مشاہد حسین سید کامیاب ہوگئے۔
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے والے 4 سینیٹرز بھی کامیاب ہوگئے۔
فاٹا سے منتخب 11 ارکان اسمبلی نے سینیٹ کے انتخابات کے لیے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں ہدایت اللہ، شمیم آفریدی، ہلال الرحمٰن اور مرزا محمد آفریدی نے کامیابی حاصل کی۔
غیر سرکاری غیر حتمی نتیجے کے مطابق پنجاب میں سینیٹ کی 6 جنرل نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امید وار کامیاب ہوگئے۔
مسلم لیگ (ن) کو اب تک 6 جنرل نشستوں کے علاوہ پنجاب سے سینیٹ کی ایک اقلیتی نشست، دو خواتین کی نشستوں اور ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں پر بھی کامیاب حاصل ہے تاہم ساتویں جنرل نشست پر مقابلہ جاری ہے۔
پنجاب کی ٹیکنو کریٹ کی دو نشستوں پر سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور حافظ عبدالکریم کامیاب ہوگئے۔
پنجاب میں خواتین کی نشست پر سعدیہ عباسی اور نزہت صادق سینیٹر منتخب ہوئیں، پنجاب سے اقلیتی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ کامران مائیکل کامیاب ہوگئے۔
پنجاب سے کامیاب ہونے والے دیگر امیدواروں میں مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امید وار شاہین بٹ، مصدق ملک، زبیر گل، آصف کرمانی، ہارون اختر اور رانا مقبول پنجاب سے سینیٹ کی نشست سے کامیاب ہوئے۔
غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق سینیٹ انتخابات میں سندھ سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے بیرسٹر فروغ نسیم اور مسلم لیگ (فنگشنل) کے مظفر شاہ کامیاب ہوگئے۔
اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رضا ربانی، سکندر میندھرو، مولا بخش چانڈیو اور انور لال دین سینیٹر منتخب ہوگئے۔
سندھ سے سینیٹ کی اقلیتی نشست پر پیپلز پارٹی کے کرشنا کوہلی کامیاب قرار پائے گئے۔
ادھر خیبرپختونخوا کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق خواتین کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مہرتاج روغانی کامیاب قرار پائیں۔
بلوچستان سے آزاد امیدوار صادق سنجرانی اور احمد خان جنرل نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے جبکہ بلوچستان سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے یوسف خان بھی سینیٹر منتخب ہوگئے۔
خیال رہے کہ وفاق اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سمیت چاروں صوبوں میں 52 خالی سینیٹ نشستوں پر 133 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
ادھر سینیٹ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے امن و امان اور شفاف انتخابی عمل برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے۔
واضح رہے کہ پنجاب کی 12 نشستوں پر 20 امیدوار، سندھ کی 12 نشستوں پر 33 امیدوار، خیبرپختونخوا کی 11 نشستوں پر 26 امیدوار، بلوچستان کی 11 نشستوں پر 25 امیدوار، فاٹا کی4 نشستوں پر 25 امیدوار اور وفاق سے 2 نشستوں پر 5 امیدوارحصہ لیا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot