اسلام آباد: قومی اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان پوسٹ کی نجکاری کے خلاف پیش کی جانے والی تجویز کو مسترد کردیا۔
واضح رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دورِاقتدار کے 5 سال دو ماہ بعد مکمل ہوجائیں گے۔
قومی اسمبلی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے مابین زبردست تلخ کلامی دیکھنے میں آئی اور ساتھ ہی پاکستان پوسٹ کی نجکاری کے لیے تجویز پیش کی گئی جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پاکستان اسٹیل ملز(پی ایس ایم) پر تالے ڈالنے کی بات پر اسمبلی سے واک آوٹ کرگئے۔
توجہ دلاؤنوٹس میں پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی، ڈاکٹر شیریں مزاری، ویمن ونگ کی مرکزی صدر منزہ حسن، لال چند ملہھی، ساجدہ بیگم نے پاکستان پوسٹ کی نجکاری کا مسئلہ اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ قومی اخبارات میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے لیے اشتہارات شائع ہوئے جس میں سرکاری مالیاتی اثاثوں کی نجکاری کے بارے میں معلومات درج تھیں، جو کہ عوامی سطح پر تحفظات کا باعث بنے۔
ڈاکٹر علوی نے کہا کہ ’ہمیں جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت مالیاتی ادارے پاکستان پوسٹ کو فروخت کرنے میں کیوں اتنی جلدی بازی کا مظاہرہ کررہی ہے جو قومی خزانے کو فائدہ ہی پہنچا رہے ہیں‘۔
انہوں نےمزید کہا کہ ’حکمراں جماعت پاکستان پوسٹ کو ایک ماہ میں پرائیوٹائیز کرنے کی خواہش مند ہے جبکہ قانونی تقاضے اور تکنیکی شرائط کو قطعی نظر انداز کیا جارہا ہے جبکہ ملک بھر میں پاکستان پوسٹ کے ہزاروں ذیلی اداروں کے فنانشل آڈیٹ بھی ایک ماہ میں ممکن نہیں ہو سکتے‘۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی پر زور دیا کہ مطلوبہ مسئلہ کو متعلقہ قائمہ کو بحث کے لیے پیش کیا جائے۔
ساجدہ بیگم نے کہا کہ ’ ایمریٹس ائیر لائن کو بنانے والی قومی ائیر لائن آج اپنے پاؤں پر نہیں کھڑی بالکل اسی طرح پاکستان پوسٹ کو بھی چینی کمپنی سے فروخت کے معاملے زیر غور ہیں‘۔
پارلیمانی سیکریٹر جاوید اخلاص عباسی نے بتایا کہ پاکستان پوسٹ کے تین شعبہ موبائل سروس، پارسل اینڈ لوجسٹک، اور انفراسٹریکچر کو نجکاری کا حصہ بنا یاجارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پوسٹ سالانہ 8 ارب روپے کا خسارہ میں ہے جس کے 97 ہزار ملازمین ہیں اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پاکستان پوسٹ کے تین شعبوں کو خریدنے والی کمپنی سالانہ 7 ارب روپے فراہم کرے گی۔
مسلم لیگ کے رہنما (ر) کیپٹن صفدر اور عبدالمنان اور پی ٹی آئی کے رہنما عارف دعلوی اور شہریار آفریدی کے مابین اس وقت سخت تلخ کلامی شروع ہوئی جب پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ ’نااہل نوازشریف ہی ملک میں تمام مسائل کی بنیادی جڑہیں‘۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ پر حکمراں جماعت کے رہنماؤں اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کے مابین لفظی تکرار شروع ہو گئی ۔
وزیرمملکت برائے پانی وبجلی عابد شیرعلی نے دعویٰ کیا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ صرف ان علاقوں میں جاری ہے جہاں لائن لوسز کی شرح 30 فیصد سے زائد ہے اور بجلی کی لوڈشڈنگ بھاری لائن لاسز کی وجہ سے جاری رہے گی۔
