Breaking News

Monday, March 12, 2018

’سیاسی شخصیات کی تصاویر اشتہارات میں نہیں آنی چاہئیں‘


سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کے سرکاری اشتہار سے متعلق کیس میں حکم دیا ہے کہ بے نظیر بھٹو، بلاول بھٹو وزیر اعلیٰ سندھ کی تصاویر سرکاری اشتہار میں نہیں آنی چاہئیں اور سیاسی شخصیات کی تصاویر والے اشتہار بند ہوں گے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے صوبائی حکومتوں کے سرکاری اشتہارات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی، سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور دیگر فریقین پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے سرکاری اشتہار کے 55 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرادیے؟جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے چیک جمع کرانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اشتہارات کی مہم پر لگنے والا پیسہ خزانے کا ہے، ہمیں اشتہارات سے کوئی غرض نہیں لیکن ذاتی تشہیر نہیں ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اشتہاری مہم پر لگنے والا پیسہ عوام کا پیسہ ہے، اشتہارات کے حوالے سے گائیڈ لائن تیار ہیں، باقی دیکھ لیں گے کہ ذاتی تشہیر کی وصولی کس سے کرنی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) اور پاکستان براڈکاسٹنٹ ایسوسی ایشن ( پی بی اے) کے وکلاء کو کہا کہ وہ بھی اپنی تجاویز دیں، عوام کے پیسے کو ضائع ہونے سے روکنا ہے، اخبارات کے اشتہارات کو بند نہیں کر رہے بلکہ ایک کٹیگری کو بند کر رہے ہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے تحریری جواب جمع کروادیا ہے، اس موقع پر خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot