ڈیرہ غازی خان ( ڈی جی کے نیوز،06اپریل2018) جموں کشمیر موومنٹ ڈیرہ غازی خان کے زیر اہتمام کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کے خلاف ریلی نکالی اور ٹریفک چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور کشمیر میں شہید ہونے والے بے گناہ کشمیریوں کا غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی،احتجاجی مظاہرے سے طلباء، وکلاء ، تاجروں اور سول سوسائٹی سمیت دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعدادنے شرکت کی، تفصیلات کے مطابق بے گناہ نہتے کشمیر یوں پر مظالم کے خلاف مظاہرہ کیا گیا مظاہرین کی طرف سے کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ‘ سید علی گیلانی، حافظ محمد سعید قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور کشمیر بنے گا پاکستان جیسے نعرے لگائے جاتے رہے۔مظاہرہ میں سکولوں کے ننھے بچوں نے بھی شرکت کی جنہوں نے اپنے چہروں پر برہان وانی کی تصاویر لگا رکھی تھیں احتجاجی مظاہرین سے جموں کشمیر موومنٹ کے ضلعی صدر رانا نصراﷲ خان ،ملی مسلم لیگ کے کنوینئراحمد لاشاری ،اہلحدیث یوتھ فورس کے عبدالرب جرار،حافظ احمد حسن ایڈووکیٹ ، جے یو آئی کے قاری جمال عبدالناصر ،جماعت اسلامی کے شیخ عثمان فاروق،پاکستان تحریک انصاف کے ملک محمد اقبال ثاقب ایڈووکیٹ ،حافظ خالد روف،یوسی چیئرمین شیر باز بزدار،شیخ لیاقت رفیق عبدالمنان شورش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں کئی دہائیوں سے بچوں ، عورتوں بوڑھوں پر ظلم کیا جا رہا ہے ، گزشتہ دودنوں میں28سے زائد نہتے کشمیریوں کو شہید کیا گیا ، سینکڑوں بچے پیلٹ گنوں کے چھروں سے بینائی کھو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کشمیر کے مسئلہ پر سفارتکاری صفر ہے ، حکمران عالمی اداروں میں کشمیریوں کی آواز بن جائیں ، کشمیریوں کی مدد کرنے کی بجائے ہمارے قائد کو مجھے کیون نکالا کی پڑی ہوئی ہے ، قاری جمال عبدا لناصر نے کہا کہ بھارت آزادی کی تحریک کو کچلنے کی کوشش کررہاہے ، بھارت یاد رکھے اس طرح کی تحریکوں کو ایسے ہتھکنڈوں سے نہیں روکا جا سکتا ، حریت رہنماؤں کو دودن کی رہائی کے بعد کٹھ پتلی حکومت نے پھر نظر بند کر دیا گیاشیخ عثمان فاروق نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے ، اقوام متحدہ ، او آئی سی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ، کشمیری پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں ، کشمیر کی آزادی کشمیریوں کے لیے اتنی اہم نہیں جتنی پاکستان کے لیے ہے ، بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا اگر دشمنوں کے قبضے میں شہہ رگ ہو تو کیا زندہ رہا جا سکتا ہے ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلی حافظ احمد حسن ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکمرانوں نے حافظ سعید کو ایک سال تک بھارت و امریکہ کی خوشنودی کے لیے نظر بند رکھا ان کا جرم تھا کہ انہوں نے سال 2017کو کشمیر کے نام کر دیا ہے بھارت و امریکہ تو خوش نہیں ہوئے لیکن حافظ سعید نے 2018کو بھی کشمیر کے نام کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ جہاں ان کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا۔ پاکستانی حکمران محض چندایک بیانا ت پر گزارہ نہ کریں کشمیریوں کی صحیح معنوں میں مدد کی جائے۔کشمیری پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ اگر بھارتی فوجی وہاں اپنا ترنگا لہرا سکتے ہیں تو انہیں بھی پاکستانی پرچم لہرانے کا حق ہے۔ ہر پاکستانی کا دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ غاصب بھارت سے تعلقات ختم کئے جائیں۔ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔انڈیا پاکستانی دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو جنگ لڑے بغیر فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔حکمران اپنے مفادات کے لیے شہروں کو بند کر دیتے ہیں مگر کشمیرمیں مظالم پر خاموش ہیں ، کشمیر ستر سال سے بھارتی ظلم برداشت کر رہے ہیں ،کشمیری دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ وہ کشمیری ہیں کشمیر میں اٹھنے والے جنازے دراصل عالمی امن کے اداروں اور ااقوام متحدہ کے جنازے ہیں ، کشمیر جلد آزاد ہو گا۔160
Post Top Ad
Your Ad Spot
Author Details
?ً.
