Breaking News

Friday, April 06, 2018

سلمان خان ہندو ہوتے تو انہیں سزا نہ ملتی، خواجہ آصف


پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بولی وڈ دبنگ ہیرو سلمان خان کو 20 سال پرانے کیس میں جیل قید کی سزا اور جرمانے پر رد عمل دیتے ہوئے اسے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔
وزیر خارجہ خواجہ آصف کے مطابق اگر سلمان خان کا تعلق بھارت کی حکمران جماعت ’بھارتی جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کے مذہب سے ہوتا تو انہیں سزا نہ ملتی۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سلمان خان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا، کیوں کہ ان کا تعلق اقلیت سے تھا۔
خواجہ آصف نے سلمان خان کو بھارت کی معروف شخصیت اور بڑا فلم اسٹار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک جانور کو مارنے کے 20 سال بعد 5 سال قید کی سزا دیے جانے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پڑوسی ملک میں اقلیتوں، ہندؤں کی نچلی ذات، عیسائیوں اور مسلمانوں کے خون کی اہمیت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلمان خان کو دی جانے والی سزا سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہندوستان میں نچلی ذات کے ہندؤں اور اقلیتوں کا خون ارزاں ہے۔
خیال رہے کہ سلمان خان کو گزشتہ روز بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جودھپور کی مقامی ٹرائل عدالت نے 20 سال پرانے کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں 5 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے ان کے شریک ملزمان مسلمان اداکار سیف علی خان، اداکارہ تبو، نیلم، سونالی باندرے اور ایک اور شخص کو بری کردیا تھا۔
عدالت کے اس فیصلے پر جہاں خواجہ آصف نے حیرت کا اظہار کیا، وہیں خود بھارتی سیاستدانوں و اداکاروں سمیت عام افراد نے بھی اس فیصلے پر حٰرانگی کا اظہار کیا۔
بھارتی راجیہ سبھا کی رکن اور ماضی کی اداکارہ جیا بچن نے بھی سلمان خان کی سزا پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو ان کے ساتھ ناانصافی قرار دیا تھا۔
جیا بچن کا کہنا تھا کہ سلمان خان کو انسانی ہمدری کی بنیاد پر ریلیف ملنا چاہیے تھا، اس کے علاوہ بھارت کے معروف اداکاروں، سیاستدانوں و دیگر شخصیات نے بھی سلمان خان کو ملنے والی سزا پر اظہار افسوس کیا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot