Breaking News

Sunday, April 22, 2018

ماڈل ٹاﺅن میں قتل عام کروانے پر بطور انعام ڈاکٹر توقیر شاہ کوسفیر بنا یا گیا،،پاکستان عوامی تحریک ڈیرہ


ڈیرہ غازیخان ( بیوروچیف)پاکستان عوامی تحریک ڈیرہ غازیخان تحصیل کے صدر رمضان خان وڈانی نے کہا کہ 70سال میں 90ارب ڈالرقرض لیا گیا۔ہزاروں کھرب روپے کے وسائل عوامی فلاح وبہبود کے نام پر خزانے سے استعمال کیے گئے۔اسکے باوجود عام آدمی کے بچے کو تعلیم غریب مریض کو علاج اور مظلوم کو انصاف میسر نہیں ۔موجودہ گلے سڑے نظام کی متعفن لاش کو کب تک کندھوپر اٹھاتے پھریں گے۔در حقیقت یہ نظام ڈیلیور کرنے میں ناکام ہو گیاہے۔اور اس نظام کی وجہ سے بالا دست طبقے کو لوٹ مار کے وسیع مواقع میسر ہیں اسلیئے متعفن نظام کو زبردستی مسلط رکھا گیا ہے۔کیونکہ اگر یہ نظام دفن ہو گیا تو استحصال اور لوٹ مار کی رسیا اشرافیہ کا کھیل ختم ہو جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری گزشتہ چار دہائیوں سے انقلاب کی بات کر رہے ہیں ۔اس ظالم نظام سے نجات کی جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے شہباز شریف کے منظور نظر اور کار خاص بیوروکریٹ ڈاکٹر توقیر شاہ کابطور سفیر جنیوا میں تقرری کا نوٹس اور اسکی آئندہ سماعت پر طلبی خوش آئند ہے،ماڈل ٹاﺅن میں قتل عام کروانے پر بطور انعام ڈاکٹر توقیر شاہ کوسفیر بنا یا گیا حالانکہ اسکے پاس سفارت کاری کا نہ کوئی تجربہ تھا اور نہ اسکے اہل تھے۔شریفوں نے منظور نظر سرکاری افسروں سے غیر قانونی کام لے کر بطور رشوت انہیں اعلیٰ عہدوں سے نوازا۔پولیس سے ہماری براہ راست دشمنی نہیں تھی، شریف برادران کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔سانحہ میں ملوث افسروں کو آﺅٹ آف ٹرن ترقی دے کر اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔طلب کیے گئے افسروں اور اہلکاروں کے پاس ابھی بھی وقت ہے اصل حقائق عدالت کو بتا دیں۔قاتل ٹولہاانہیں بطور بکرا استعمال کرنے کی پوری منصوبہ بندی رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس میں شریف برادران اور حواریوں کو شامل ٹرائل کرنے سے ہی انصاف کے تقاضے پورے ہونگے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot