Breaking News

Sunday, June 03, 2018

آئندہ الیکشن: دو کزنوں میں سے کون کامیاب ہوگا؟


جنوبی پنجاب میں جب بھی مسلم لیگ ن کی سیاست کی بات ہوتی ہے تو جاوید ہاشمی کے بعد ایک ہی نام ذہن میں آتا ہے اور وہ ہے کھوسہ سردار۔
ذوالفقار علی خان کھوسہ نے اپنی سیاست کا آغاز مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کیا اور آج تک وہ کسی اور پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن نہیں لڑے۔
پیپلز پارٹی میں فاروق خان لغاری کی وجہ سے اس کے مخالف سردار یا قبائل کے لیے پیپلز پارٹی میں جگہ بنانا ناممکن تھا اس لیے کھوسہ سرداروں کی منزل مسلم لگی ٹھہری۔
ذوالفقار علی خان کھوسہ کی سیاست کو دو حصہ میں دیکھنے کی ضرورت ہے ایک مقامی سیاست اور دوسرا قومی یاست۔
ذوالفقار علی خان کھوسہ کو مسلم لیگ ن نے کافی پرموٹ کیا تاکہ جنوبی پنجاب خصوصاً ڈیرہ غازیخان میں پیپلز پارٹی کے مخالف ووٹ بینک کو اکٹھا کیا جا سکے۔
 ذوالفقار علی خان کھوسہ مقامی سیاست میں تھوڑا عرصہ ہی رہے پھر وہ قومی سیاست کی طرف چلے گئے اور مقامی سیاست میں عمل دخل کم سے کم ہوتا گیا۔
ذوالفقار علی خان کھوسہ نے مقامی سیاست کے لیے اپنے کزن امجد فاروق کھوسہ کو متعارف کرایا اور ان کی بھرپور سپورٹ کی اگرچہ ان کا اپنا بیٹا سردار سیف الدین خان کھوسہ بھی مقامی سیاست و علاقائی سیاست کر رہے تھے مگر ذوالفقار علی خان کھوسہ نے اپنے بیٹے کو فاروق لغاری کے مقابلے میں ہمیشہ الیکشن لڑوایا اور امجد فاروق کو ان علاقوں سے سیاست کرنے کا موقع دیا۔ جہاں سے کھوسہ برادری کے ووٹ زیادہ تھے۔
امجد فاروق کھوسہ ایک مرتبہ آئی جے آئی اور پھر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے  اور دوسری طرف سیف الدین کھوسہ فاروق لغاری کو کوئی بھی الیکشن ہرانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
1999 میں جب ذوالفقار علی خان کھوسہ گورنر پنجاب بنے تو انہوں نے تونسہ شریف کے لیے بہت سے ترقیاتی کاموں کی منظوری کرائی جو یقیناً امجد فاروق کے حلقے کے لیے تھی۔
مشرف کے مارشل لاء کے وقت تمام مسلم لیگ ن پر بُرا وقت شروع ہوا اور کھوسہ سرداروں نے اس بُرے وقت میں مسلم لیگ ن کے ساتھ نہ چھوڑا بلکہ پارٹی کو پنجاب میں زندہ رکھا۔
2006ء کے بلدیاتی الیکشن کے دوران کھوسہ سرداروں میں ناراضگی شروع ہوئی اس کی وجہ تھی تحصیل نظامت، امجد فاروق چاہتے تھے کہ تحصیل نظامت ان کو دی جائے جبکہ ذوالفقار علی خان کھوسہ تحصیل نظامت کے لے اپنے بیٹے دوست محمد کھوسہ کے لیے تیاری کر رہے تھے۔ ان دونوں سردار وں کی ناراضگی کی وجہ سے ذوالفقار علی خان کھوسہ کے بیٹے الیکشن ہار گئے کیونکہ امجد فاروق نے ان کی مخالفت میں ووٹ دئیے۔
2008ء کے جنرل الیکشن میں ذوالفقار علی خان کھوسہ نے این اے 173 موجودہ این اے 190 کا ٹکٹ اپنے بیٹے سردار سیف الدین خان کھوسہ کو دلوایا اور امجد فاروق کھوسہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑے اگرچہ وہ تونسہ شریف والی سیٹ ہار گئے مگر علاقے میں لوگوں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے پی پی 242 سے آزاد حیثیت سے الیکشن جیت گئے۔
دوست کھوسہ کے وزیر اعلیٰ بننے کی وجہ سے امجد فاروق کھوسہ نے باقاعدہ طور پر مسلم لیگ ن جوائن تو کی مگر ان کو کوئی فنڈز جاری نہیں کیے گئے گویا کہ امجد فاروق نے پانچ سال اپوزیشن میں گزار دئیے۔
2013ء میں کیونکہ ذوالفقار علی خان کھوسہ کے تعلقات میاں نواز شریف سے اچھے نہیں تھے اس لیے امجد فاروق کو مسلم لیگ ن میں جگہ بنانے کا موقع ملا مسلم لیگ ن نے امجد فاروق کو این اے 171 کا ٹکٹ دیا اور امجد فاروق وہاں سے کامیاب بھی ہو گئے۔
ادھر ذوالفقار علی خان کھوسہ کا ایک بیٹا پیپلز پارٹی کی طرف سے امیدوار تھا اور دوست کھوسہ نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ صرف ذوالفقار علی خان کھوسہ اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب رہے جسے انہوں نے سینیٹر بننے کے لیے خالی کر دیا تھا۔
موجودہ صورتحال:۔
موجودہ صورتحال میں امجد فاروق کھوسہ دو سیٹوں سے الیکشن لڑنے کی وجہ سے اس سیٹ سے بھی امیدوار ہیں جہاں سے ذوالفقار علی خان کھوسہ خود امیدوار ہونگے۔ ذوالفقار علی خان کھوسہ کی کمپئن ان کے بیٹے سردار سیف الدین کھوسہ کر رہے ہیں اور امجد فاروق کھوسہ کی کمپین ان کے بیٹے ضلع چیئرمین عبدالقادر اور سابق ایم پی اے محسن عطا کھوسہ کر رہے ہیں۔
نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے این اے 190 میں تمن لُنڈ تمن کھوسہ اور سہر کے قریب والے علاقے شامل کیے گئے ہیں۔
تمن لُنڈ میں امجد فاروق اور محسن کھوسہ کا ووٹ بینک ہے جو یقیناً امجد فاروق کے لیے فائدہ مند ہوگا مگر ذوالفقار علی خان کھوسہ کی علاقائی سیاست میں واپسی کی وجہ سے وہ لوگ جو امجد فاروق اور محسن عطاء کھوسہ کو ووٹ دیتے رہے ہیں اب وہ دوبارہ ذوالفقار علی خان کھوسہ کے کیمپ میں جا سکتے ہیں اور کچھ تو چلے بھی گئے ہیں۔
تمن لُنڈ میں کھوسہ سرداروں کے خلاف ایک نفرت ہے مگر وہ نفرت امجد فاروق گروپ تک محدود ہے بہت عرصہ تک علاقائی ، سیاست میں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ذوالفقار علی خان کھوسہ سے نفرت نہیں کرتے اور یہی پوائنٹ تمن لُنڈ میں ذوالفقار علی خان کھوسہ کو برتری دلائے گا۔
تمن کھوسہ میں محسن کھوسہ اور عبدالقادر کی موجودگی میں امجد فاروق بظاہر مضبوط لگ رہے ہیں مگر تمن کھوسہ میں ذوالفقار علی خان کھوسہ نے ابھی تک کمپین شروع نہیں کی اس لیے یہ تو بعد میں طے ہوگا کہ تمن کھوسہ اپنے تمن دار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی حمایت کرتے ہیں یا امجد فاروق کی مگر عاصم زبیر کھوسہ نے ذوالفقار علی خان کھوسہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے جو تمن کھوسہ میں کافی اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔
سیف الدین کھوسہ بھی تمن کھوسہ میں اپنا ووٹ بینک رکھتے ہیں اور وہ بلدیاتی الیکشن میں وہاں سے یونین چیئرمین بھی منتخب ہو چکے ہیں۔
اگر ہم شہر کے قریب واقع یونین کونسلز کی بات کریں تو وہاں ذوالفقار علی خان کھوسہ کا پلڑا بھاری ہے کیونکہ ذوالفقار علی خان کھوسہ اور سیف الدین کھوسہ ان علاقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
مجموعی طور پر اس سیٹ پر دونوں کھوسہ سرداروں کے درمیان مقابلہ بڑا سخت ہوگا اگر ذوالفقار علی خان کھوسہ تحریک انصاف کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصے لیں گے تو ان کو تحریک انصاف کا ووٹ بینک ملنے کی وجہ سے تھوڑی بہت برتری ہوگی مگر یہ تو الیکشن والا دن بتائے گا کہ لوگ تمن دار اور قبیلہ کے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کو ووٹ دے کر کامیاب کراتے ہیں یا امجد فاروق کھوسہ اور مسلم لیگ ن کا پلڑا بھاری رہے گا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot