ڈیرہ غازی خان بھی پاکستان کے دیگر اضلاع کی طرح ایک مضبوط مذہبی بیک گراؤنڈ رکھنے والا ضلع ہے۔ مذہبی اجتماعات اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ضلع کی سیاست بھی مذہبی رہنماؤں کے ہاتھ میں ہوگی لیکن ایسا نہیں ہے۔ اکثر انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے امیدوارا اپنی ضمانتیں ضبط کروا بیٹھتے ہیں۔ اس حوالے سے ضلع بھر کی معروف مذہبی جماعتوں کی سیاسی پوزیشن کا جائزہ لیا گیا ہے۔
جمیعت علماء اسلام
جمیعت علماء اسلام باقی سیاسی و مذہبی جماعتوں سے ضلع میں زیادہ حیثیت رکھتی ہے۔ حتیٰ کہ ڈیرہ کی سیاست میں بڑے بڑے نامی گرامی لوگ مذہبی جماعتوں سے الیکشن بھی لڑ چُکے ہیں جس میں مولنا فضل الرحمٰن کے والد مفتی محمود صاحب جو تحصیل تونسہ سے الیکشن لڑ چُکے ہیں۔ جمیعت علماء اسلام کے ضلعی امیر جمال عبدالناصر ہیں جن کا عوامی رابطہ تو مجبوط اور سماجی و مذہبی پروگراموں میںب ھی اپنی پہچ بنائے رکھتے ہیں حالانکہ دیو بندی مکتبہ فکر والے اکثریتی طبقہ بھی ووٹ بڑی سیاسی پارٹیوں کو ڈالتا ہے۔
تحصیل تونسہ میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت دیو بندی مکتبہ فکر سے ہے اس وجہ سے جمیعت کا ووٹ بنک فتح یاب کرنے کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ کئی انتخابات میں جمیعت کے امیدواروں نے صوبائی نشستوں پر اچھا ووٹ لیا ہے۔
2013ء کے عام انتخابات میں میر بادشاہ قیصرانی بھی جمیعت کے ٹکٹ سے کامیاب ہوئے تھے لیکن جعلی ڈگری کی بنا پر چند ماہ بعد ہی نااہل ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ان کی بیگم شمعون قیصرانی ن لیگ کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئیں تھی تب جمیعت کے امیدوار بیرسٹر امام بخش قیصرانی آٹھ ہزار ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے تھے۔
آنے والے الیکشن میں مذہبی علاقوں خصوصاً تونسہ کے قُرب جوار سے دیو بندی ووٹ ضرور اثر کن ہوگا۔
اسی طرح ڈیرہ غازی خان شہر میں بھی جمیعت کا ووٹ بنک موجود ہے لیکن انتخابات کے وقت اکثر یہ دوسری جماعتوں کے کھاتے میں برادری یا تعلق کی بنا پر چلا جاتا ہے۔ گزشتہ جنرل انتخابات میں این اے 172 پر حافظ عبدالکریم کی فتح میں بھی جمیعت اور دیو بندی مکتب فکر کےووٹوں کا کردار اہم رہا تھا۔
جماعت اسلامی
جماعت اسلامی پاکستانی سیاست میں بہت ہی پرانی تاریخ رکھتی ہے اور اس جماعت کو ڈیرہ غازی خان میں بھی خاص مقام حاصل ہے جیسا کہ 1970ء میں سرداروں کے خلاف جماعت کے رہنما ڈاکٹر نذیر شہید نے کامیابی حاصل کی تھی۔ مذہبی اکثریت سے تعلق رکھنے والے ضلع میں جماعت اسلامی کی مقبولیت کےکم ہونے کی اہم وجہ عوامی رابطے کی کمی ہونا ہے۔
صوبائی نائب امیر شیخ عثمان فاروق کا تعلق ڈیرہ غازی خان شہر سے ہے جو گزشتہ ضلع امیر بھی رہے اور شہر کی صوبائی نشست پر الیکشن بھی لڑتے رہے، گزشتہ الیکشن میں صرف چار ہزار ووٹ لے سکے تھے۔
جماعت اسلامی کے امیر پروفیسر عطاء حُسین جعفری ہیں جن کا تعلق تونسہ شریف سے ہے جو ڈیرہ سنٹر سے سو کلومیٹر کی مسافت پر رہتے ہیں، نائب امیر راشد نسیم صاحب ہیں۔ جن کا عوامی رابطہ بالکل کم سمجھا جاتا ہے۔ عام افراد تک ان کا نام نہیں جانتے نہ ہی دیگر قیادت کا۔
جماعت اسلامی میں تعلیم یافتہ لوگ ہونے کے باوجود بھی جو اہم کمزوری پائی جاتی ہے ان کو سوائے چند سیاسی ورکرز اور اپنے محلے کی سطح کے علاوہ باقی کوئی عام فرد واقف نہیں جس کی وجہ سے ان کا ووٹ بنک زیادہ نہیں بڑھا جا سکا۔ لیکن ہر صوبائی حلقے میں دو ہزار سے تین ہزار تک ووٹ موجود ہے جو متحدہ مجلس عمل کے مشترکہ امیدوار کو کچھ فائدہ ضرور دے سکتے ہیں۔
تحریک لبیک پاکستان
2017ء میں جنم پانے والی بریلوی مکتبہ فکر میں مقبولیت پانے والی جماعت ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں بھی بریلوی مکتبہ فکر کی مجموعی آبادی دوسرے مکاتب سے زیادہ ہے لیکن سیاسی طور پر اتنی مضبوط نہیں ہیں۔
تحریک لبیک میں مرکزی سطح پر دو دھڑے ہونے کی وجہ سے کارکنان بھی ضلعی سطح پر تقسیم ہیں لیکن متوقع یہی ہے کہ الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑے کریں گے۔ اس وقت ڈیرہ ضلع میں تحریک لبیک کی قیادت سید منیر حسین شاہ، علامہ خبیب احمد نقشبندی، حضرت بابا نسیم اللہ جان سیفی، سید احمد شاہ اور دیگر علماء کے پاس ہے۔
مذکورہ حضرات اپنے حلقہ مریدین اور کارکنان میں تو اچھی عزت پہچان رکھتے ہیں لیکن ووٹ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
گزشتہ ماہ میں جماعت کے رہنما علامہ خادم رضوی نے تونسہ شریف کا دورہ کیا جو کافی حد تک کامیاب رہا۔ تونسہ شہر چونکہ صوفیوں اور بزرگوں کا شہر کہا جاتا ہے اس لیے خواجہ پیر پٹھان اور خواجہ سلمان تونسوی کی گدی سے تعلق رکھنے والے ویسے تو تمام سیاسی جماعتوں سے منسلک ہیں لیکن بریلوی مکتب فکر کا ووٹ بنک خواجہ حضرات کی مرضی سے جاتا ہے۔
لیکن عام طور پر بریلوی مکاتب کی مساجد کی تعداد بھی زیادہ ہے لیکن ان مساجد کو چلانے والا اکثر زمیندار طبقہ ہوتا ہے جن کا براہ راست لنک سرداروں اور بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہے۔
مولوی صاحبان بھی ان کے ہاں کام کرنے کی وجہ سے ووٹ بھی ان کی جھولی میں ڈالتے ہیں باقاعدہ گاہے بگاہے چھُپے لفظوں میں سیاسی کمپین بھی مجبوراً چلانی پڑتی ہے۔ مجموعی طور پر بریلوی مکتب فکر کا ووٹ تو بہت زیادہ ہے لیکن یہ ووٹ محفوظ نہیں ہے البتہ تحریک لبیک کی ٹکٹوں پر متعدد بریلوی علماء اور پیر الیکشن میں اپنے مریدین اور متعلقین سے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
اہل تشیع ووٹ
ڈیرہ غازی خان میں اہل تشیع کی ٓبادی بھی دیگر مسالک سے کم ہے لیکن جنوب مغربی ڈیرہ میں اچھی تعداد رکھتی ہے۔
جیسا کہ گزشتہ الیکشن میں مجلس وحدت المسلمین کی طرف سے پی پی 245 پر امیدوار خادم حُسین نے تقریباً سات ہزار ووٹ حاصل کیا تھا جس میں اکثریتی ووٹ اہل تشیع مکتبہ فکر کا تھا۔ لیکن اہل تشیع کا ووٹ بھی دوسری جماعتوں کے پلڑے میں جاتا ہے کافی ایسی برادریاں ہیں جو لغاری برادرن کو سپورٹ کرتی ہیں اور تحریک انصاف کو بھی۔ حالنکہ 2013ء کے الیکشن میں مذہبی طور اختلافی نظریات رکھنے والے حافظ عبدالکریم کو بھی ووٹ دیے گئے۔
تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی امیر علامہ ساجد نقوی ڈیرہ کے اہل تشیع مکتب کے ساتھ ایک اچھا رابطہ رکھتے ہیں اگر وہ اعلانیہ متحدہ مجلس عمل کو ووٹ دینے کا حکم کرد یں تو نظریاتی ووٹ متحدہ مجلس عمل کو ہی جا سکتا ہے۔
نئے انتخابات میں اہل تشیع رہنماؤں میں سے ایم ایم اے کے امیدوار بھی چند حلقوں سے سامنے آ سکتے ہیں لیکن متحدہ مجلس عمل کا ووٹ چند حلقوں کے علاوہ کہیں نظر نہیں آ رہا۔
پاکستان عوامی تحریک
ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی و مذہبی جماعت پاکستان عوامی تحریک کا وجود بھی ضلع ڈیرہ غازی خان میں موجود ہے۔
پاکستان عوامی تحریک جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل سردار سیف اللہ خان سدوزئی ایڈووکیٹ ہی ضلع کو لیڈ کرتے ہیں۔
ملک اختر حسین ملانہ ضلعی صدر ہیں جو گزشتہ الیکشن میں حصہ لے چکے ہیں ۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان حالانکہ قلیل تعداد میں ہیں لیکن تنظیم ضلع اور تحصیل لیول پر فعال اس لیے نظر آتی ہے کیونکہ ہر اہم ایشو پر عوامی تحریک کے کارکنان منظر عام پر آئے رہتے ہیں۔ متوقع الیکشن میں بھی پاکستان عوامی تحریک اکثر سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھی ہے لیکن فتح کا امکان ابھی دور است۔
ملی مُسلم لیگ
2017ء میں لاہور کے ضمنی الیکشن میں سامنے آنے والی دوسری بڑی مذہبی سیاسی جماعت ملی مُسلم لیگ تھی۔ جس کی کمان جماعت الدعوہ کے پاس ہے۔ ضلع ڈیرہ غازی خان میں جماعت الدعوہ کے تو ضلعی عہدیدار اور افراد موجود ہیں لیکن ابھی تک الیکشن لڑنے کے حوالے سے ضلعی سظح پر کوئی خبر سامنے نہیں آ ئی۔
متحدہ مجلس عمل
پاکستان عوامی تحریک کے علاوہ دیگر مذکورہ مذہبی جماعتیں اس وقت مرکزی سطح پر پرانا سیاسی و مذہبی اتحاد متحدہ مجلس عمل بحال کر چُکی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل ڈیرہ غازی خان میں ووٹوں کے حوالے سے مضبوط جمیعت علماء اسلام ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جمیعت اہلحدیث کے مرکزی ناظم اعلیٰ پاکستان ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ڈیرہ غازی خان کی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں لیکن وہ اپنی مذہبی پارٹی کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کے سینیٹر اور وفاقی وزیر بھی ہیں۔
حافظ عبدالکریم کو مجلس عمل کے مرکزی اجلاسوں میں بھی فرنٹ لائن پر دیکھا گیا ہے۔ ان کے فرزند اسامہ عبدالکریم بھی مسلم لیگ یوتھ کے نائب صدر ہیں جن کا متوقع الیکشن میں بطور امیدوار سامنے آنے کی خبریں گردش میں ہیں۔ وہ اس وقت دو کشتیوں پر ہیں جس کا وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ن لیگ اور متحدہ مجلس عمل کا ووٹ ایک دم حاصل کر سکتے ہیں۔
باقی ڈیرہ ضلع میں تونسہ تحصیل پر اگر متحدہ مجلس عمل کوئی مضبوط امیدوار سامنے لاتی ہے تو جیت کے کچھ چانسز بن سکتے ہیں ورنہ کچھ نہیں۔
ضلع ڈیرہ غازی خان میں دو حقائق ہر صورت تسلیم کرنے پڑتے ہیں۔ ضلع میں مذہبی ووٹوں کی اکثریت ہے لیکن مذہبی ووٹ مذہبی جماعتوں کو نہیں ملتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈیرہ کی سیاست کا دارومدار جاگریدرانہ نظام کے گرد گھومتا ہے اس لیے مذہبی جماعتیں اکثریت رکھنے کے باوجود بھی شکست کھا جاتی ہیں۔
مقامی لوگ جاگیرداروں پر مذہبی لوگوں سے اس لیے زیادہ اعتماد رکھتے ہیں کیونکہ مذہبی رہنماء بھی ہر الیکشن میں کسی نہ کسی سردار اور جاگیردار کے ساتھ جا کر معاہدے کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے عوام بھی کم اعتماد کرتی ہے۔
