چھ سال سے قائم ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی ابھی تک فعال نہیں ہو سکی اور نہ
ہی اس یونیورسٹی میں اب تک مستقل وائس چانسلر تعینات کیا جا سکا ہے۔غازی یونیورسٹی
ایکٹ 2012 کو منظور ہوئے چھ سال بیت چکے ہیں مگر ابھی تک یوینورسٹی فقط سرکاری
کاغذات تک محدود ہے۔2014 سےاب تک پانچ
وائس چانسلر اور دو وی سی کمیٹیاں ایڈیشنل چارج پر اِس یونیورسٹی کو چلانے کی خاطر
بنائی گئیں۔ مگر سب ناکام ہوئے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر قیصر مشتاق جوکہ اسلامیہ یونیورسٹی
آف بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں۔انہیں 27جون 2016 سے غازی یونیورسٹی کی ایڈیشنل
چارج کے طور پر وائس چانسلر شپ سونپی گئی ہے۔ لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔اساتذہ،
سٹودنٹس اور شہری غازی یونیورسٹی کی خستہ حالی سے پریشان اور احتجاج پر مجبور ہو
چُکے ہیں اب تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے ہر روز طلباء یونیورسٹی گیٹ پر شدید گرمی
اور دھوپ میں بیٹھے اپنی محرومیوں اور روشن مستقبل کی آس پر نعرے لگا رہے ہیں مگر
کوئی سُننے کو تیار نہیں۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مقامی، صوبائی اور وفاقی حکومت
کے کسی نمائندے نے اس ایشو کو سنجیدہ نہیں لیا۔گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج کو غازی
یونیورسٹی میں تبدیل کیا گیا تھا لیکن سوائے نام کے ابھی تک دوسری کوئی تبدیلی
ممکن نہیں ہوئی۔ بی زیڈ یو کے کیمپس کی عمارت اور کالج کی پُرانی عمارت اور بسوں
پر فقط نام کنندہ کیا گیا مگر نہ تو کوئی نئی عمارتین تعمیر ہوئیں، نہ کیفے ٹیریا
بنایا جا سکا اور نہ ہی کوئی لائبریری۔
پرائیویٹ ایم اے اور بی اے کے لیے ابھی تک مقامی طلبہ کو بی زیڈ یو ملتان
کے دھکے کھانے پڑتے ہیں اور ڈگریاں بھی وہی پڑھائی جا رہی ہیں جو کالج اور زکریا یونیورسٹی
کے کیمپس پڑھاتے تھے۔مقامی صحافی مظہر علی خان لاشاری کہتے ہیں کہ اصل ایشو یہ ہے
کہ ڈیرہ کے تینوں ایم این ایز جن میں دو
وفاقی وزیر ہیں کوئی آواز اٹھانے کو تیار ہی نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں اگر یہ یونیورسٹی
لاہور، اسلام آباد یا دیگر پنجاب کے کسی شہر میں ہوتی تو وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور
چیف جسٹس صاحب بھی نوٹس لیتے لیکن جنوبی پنجاب کی عوام کا اپنا مقدر ایسا ہے۔مظہر
علی لشاری کہتے ہیں جب تک الگ صوبہ نہیں بنتا یہ ایشوز ایسے ہی رہیں گے۔صحافی
سکندر حیدر کہتے ہیں 2014 سے تاحال یونیورسٹی بجٹ کی کوئی باقاعدہ منظوری نہیں ہوئی۔
بس اخراجات من پسند انداز میں کیے جا رہے ہیں۔ حتی کہ سابق ٹریژرر (خازن) ڈاکٹر ندیم
اقبال نے مالی کریشن کی خاطر ووچرز بلوں پر چار قسم کے دستخط کیے اور اپنے لیے غیر
ملکی تعلیمی وظیفہ کی رقم مبلغ دو ملین روپے یکمشت نکال کر کرپشن کی۔ جس کی
باقاعدہ انکوئری زیر التواء ہے۔ احتجاجی سٹوڈنٹس کے حکومتی بے حسی اور یونیورسٹی
انتظامیہ کی کرپشن کے خلاف نعرے اور احتجاج جاری ہے مگر کوئی کان دھرنے والا نہیں
ہے۔ احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ غازی یونیورسٹی ایکٹ 2012 کے تحت حکومت پنجاب نے
زرعی کالج فیصل آباد، بی زیڈ یو سب کیمپس، غازی خان میڈیکل کالج اور پوسٹ گریجویٹ
کالج ڈیرہ غازی خان کو غازی یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ مگر پنجاب حکومت اِس کو آج تک
باقاعدہ یونیورسٹی نہیں بنا سکی۔
اِس وقت 557 آسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ 739 کل آسامیاں منظور شدہ ہیں۔ فقط
دو پروفیسرز پوری یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ جبکہ پروفیسر کی 24 آسامیاں خالی ہیں۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر کی57 منظور شدہ آسامیاں، اسٹنٹ پروفیسر کی 89 آسامیاں اور لیکچرار
کی105 آسامیاں تاحال خالی ہیں۔دیگر عملے کی آسامیوں پر بھی تعیناتی نہیں کی گئی۔
حتی کہ انتظامی امور سے وابستہ اہم ترین پوریشن، وائس چانسلر، ٹریژرر(خازن)، ڈپٹی
خازن، کنٹرولر امتحانات، اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات، ڈائریکٹر سپورٹس، ٹرانسپورٹ کی
آسامیاں 2014 سے خالی پڑی ہیں۔ ان پوریشن پر ایڈیشنل چارج سے کام چلایا جا رہا
ہے۔اب تک یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے فقط دو اجلاس مورخہ 16 فروری 2015 اور یکم فروری
2018 کو منعقدہ ہوئے ہیں۔ مگر اِن اجلاس کی کاروائی(ایجنڈا) آج تک پایہ تکمیل تک
نہیں پہنچ سکی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر نجیب حیدر ملگانی کے حوالے سے خبریں ہیں کہ
انہوں نے 2014ء سے لے کر اب تک کوئی سنڈیکٹ اجلاس تک نہیں کیے۔یونیورسٹی سنڈیکٹ ایک
بااختیار یونیورسٹی فورم ہوتا ہے جو تدریس سے لے کر دیگر تمام جامعہ کے اُمور کو
اپنی نگرانی میں فعال رکھتا ہے۔ لیکن سندیکٹ کمیٹی بنائی تو گئی لیکن اس حوالے کام
بالکل نہیں ہوا جس کا نتیجہ یونیورسٹی کی تباہ حالی ہے۔
غازی یونیورسٹی اس وقت بغیر وائس چانسلر ہی نہیں، بلکہ بغیر بجٹ، بغیر ڈگریاں
اور بغیر عمارت اپنی پُرانی گاڑیوں کے ساتھ چلنے کی کوشش میں ہے دیکھتے ہیں کون اس
کے بارے سوچتا ہے۔


