ان کا کہنا ہے کہ دونوں لغاری سردار ہی مقابلے میں ہیں اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو سردار جمال خان لغاری کا حلقے میں عوامی میل ملاپ اور سیاسی اثر و رسوخ سردار محمد خان لغاری اور سردار مقصود لغاری کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔
یاسین جمالی کا کہنا ہے این اے 192 نیا حلقہ ہے اس میں تحصیل کوٹ چھٹہ کے اکثریتی علاقے شامل ہیں جہاں گزشتہ  الیکشن میں سردار اویس لغاری ایم این اے  رہے  تھے دوسرا چوٹی اور خانپور کا علاقہ ہے جہاں  لغاری سردار یا پھر مسلم لیگ ن کو ہی گزشتہ الیکشنز میں فتح ملتی رہی۔
تحریک انصاف کے رہنما سردار سیف الدین کھوسہ کی حمایت  کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سردار سیف الدین کھوسہ سردار محمد خان لغاری کی حمایت ضرور کر رہے ہیں لیکن سیف الدین گزشتہ الیکشنز میں اکثر ان علاقوں سے ناکام ہوتے رہے سوائے 2008 میں ن لیگ کی طرف سے سیٹ حاصل کر سکے تھے۔

سیف الدین کھوسہ کی سردار محمد خان لغاری کی حمایت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس حلقے میں صوبائی سیٹ 291 پر اپنے بھتیجے محی الدین خان کھوسہ کو  کھڑا کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اس حلقے کی دوسری صوبائی سیٹ 292 پر سردار محمد خان لغاری  خود کھڑے ہو رہے ہیں۔
اس کے علاوہ دوسری پارٹیوں میں پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر غلام مرتضی این اے 192 پر میدان میں اُتر رہے ہیں لیکن ابھی صوبائی  نشستوں پر پیپلز پارٹی کو کوئی امیدوار ہی نہیں ملا۔ ڈاکٹر غلام مرتضی ٰ تحصیل کوٹ چھٹہ سے تعلق رکھتے ہیں مگر سیاسی حوالے سے انتہائی غیر معروف شخصیت ہیں ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اب بس الیکشن لڑنے کے  حوالے سے رسمی کاروائی ہی کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ ایم ایم اے کا ابھی کوئی امیدوار  نظر نہیں آیا، باقی مختلف برداریوں سے چند آزاد امیدوار سامنے آ گئے ہیں جن میں پی پی 291 سے ارشد خان گورمانی اور اسلم سرکانی  اس کے علاوہ  پی پی 292 سے  نعیم چنگوانی، علی محمد مستوئی اور صادق برمانی  بھی شامل ہیں۔
سیاسی مبصرین این اے 192 میں میاں شہباز شریف کی فتح کے حوالے سے آراء رکھتے ہیں لیکن یہ سب کہنا قبل از وقت ہوگا۔