ڈیرہ غازی خان کا چوتھا حلقہ این اے 192 بھی اس مرتبہ سیاسی مبصرین کی توجہ کا مرکز بن چُکا ہے۔ وہ اس لیے کہ لغاری سرداروں کی موروثی سیٹ پر لغاری سرداروں کی ہی حمایت اور کوشش سے سابق وزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف صاحب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
دوسری دلچسپ وجہ یہ ہے کہ میاں صاحب کے مقابلے میں بھی چیف لغاری سردار جمال خان لغاری کے چچا زاد اور سابق ایم پی ایے سردار محمد خان لغاری پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار بن چُکے ہیں۔
سیاسی طور پر یہ حلقہ انتہائی دلچسپ صورتحال سے گزر رہا ہے وہ اس لیے کہ یہاں کوئی نظریاتی قسم کی سیاست نہیں بلکہ اقتدار کے لیے ہی شطرنج جیسی بازی کھیلی جا رہی ہے۔
پہلے تو یہ وجہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میاں شہباز شریف کو اس قبائلی حلقے میں الیکشن لڑنے کی کیوں ضرورت پڑ گئی کیا وہ اس حلقے سے میدان مار لیں گے، یا پھر لغاری سرداروں کی موروثی سیٹ دوسرے سرداروں کے حوالے کر جائیں گے۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف میں عرصہ سے شامل رہنے والے اور محنت کرنے والے نظریاتی کارکنان کو ٹکٹ نہیں دی گئی بلکہ ان نظریاتی کارکنان کو اب انہی سرداروں کے پیچھے غلامی کرنے پر لگا دیا گیا ہے جو نالاں بھی کافی ہیں اور فیصلہ بھی نہیں کر پا رہے۔
میاں شہباز شریف شریف کو اس حلقے سے الیکشن لڑنے کے حوالے سے مقامی صحافی یاسین خان رمدانی جمالی کہتے ہیں کہ ڈیرہ غازی خان خصوصاً این اے 192 میں مسلم لیگ ن کے دو دھڑے بن چُکے تھے۔ جن مین ایک حافظ عبدالکریم گروپ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی اور دوسرے لغاری سردار جو گزشتہ الیکشن کے بعد سے مسلم لیگ ن سے ہی وابستہ ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ حافظ عبدالکریم کو میاں نواز شریف کی حمایت حاصل تھی اس لیے حافظ صاحب کو سینیٹرز بنا کر پارلیمانی سیاست سے دور کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ سردار جمال خان لغاری گزشتہ الیکشن میں این اے 172 جو تقریباً اب این اے 192 پر مشتمل ہے ہار گئے تھے۔ اس وجہ سے لغاری سرداروں نے پہلے میاں شہباز شریف کا جلسہ کروا کر یہ باور کرا دیا تھا کہ مسلم لیگ ن اب ان کے ساتھ ہے۔
یاسین خان کا کہنا ہےکہ لغاری سردار میاں شہباز شریف سے اس لیے الیکشن لڑوا رہے ہیں اور اُمید کی جاتی ہے کہ وہ سیٹ جیت کر چھوڑ جائیں گے اور ضمنی الیکشن میں سردار جمال خان لغاری دوبارہ الیکشن لڑیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ این اے 192 میں ایسے مسلم لیگی ووٹ بھی ہیں جو اینٹی سردار کہلاتے ہیں وہ لازمی شہباز شریف کے پلڑے میں جائیں گے۔ دوسرا یہ پوائنٹ ہے کہ حافظ عبدالکریم گروپ سے وابستہ بلدیاتی نمائندگان اور لیگی کارکنان کو مجبوراً میاں شہباز شریف کو ووٹ دینا پڑے گا اور حمایت بھی کریں گے۔
این اے 192 کے دو صوبائی حلقوں پی پی 291 پر سابق ایم پی اے سردار محمود قادر لغاری اور پی پی 292 پر سابق ایم این اے اور وفاقی وزیر سردار اویس لغاری کے کاغذات منظور ہو چکے ہیں۔
یہاں یہ دلچسپ امر ہے کہ لغاری سرداروں نے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ کسی سیاسی ورکر یا ' ن لیگی' کارکن کو دلوانے کی بجائے اپنے خاندان تک ہی محدود رکھا۔
اس وقت سردار جمال خان لغاری اپنی فوج ظفر موج کے ساتھ مستقل حلقے میں موجود ہیں اور سیاسی کمپین بھرپور طریقے سے جاری کیے ہوئے ہیں۔ میاں شہباز شریف کے جلسے کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں کہ جولائی کے وسط تک میاں شہباز شریف اور دیگر لیگی رہنما حلقے کا دورہ کریں گے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کی بھی دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب نامزدگی سے پہلے شہر بھر میں پوسٹرز آویزاں کرنے والے پرانے ورکرز کو ٹکٹ ملنے کی بجائے وہ بھی سابق ضلع ناظم سردار مقصود خان لغاری کے بیٹے اور ق لیگ میں رہنے والے سابق ایم پی اے سردار محمد خان لغاری کو ٹکٹ دے دی گئی جو کبھی تحریک انصاف کا حصہ بھی نہیں بنے۔
تحریک انصاف کی ابتدائی سیاسی کمپین چلانے والے ڈاکٹر سعید بزدرا، عاطف علی خان دریشک اور سابق امیدوار فہیم سعید چنگوانی کو ٹکٹ نہیں مل سکی۔
اس وقت تحریک انصاف کا اس حلقے میں نوجوانوں کا اچھا ووٹ بنک ہے جو اب اس امید پر سردار محمد خان لغاری کو ووٹ دینے کو تیار ہیں کہ ان کے لیے تبدیلی کی علامت صرف عمران خان ہی ہیں۔
انصافی ورکرز کا کہنا ہے کہ ہمیں لیڈر سے غرض ہے ہم نے اس نیت پر ووٹ دینا ہے کہ اگر لیڈرشپ ٹھیک ہوگی تو نیچے کام کرنے والے بھی درست ہو جائیں گے۔
یاسین خان جمالی کہتے ہیں کہ اس حلقے میں نوجوان ضرور تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے لیکن قبائلی علاقہ ہونے کی وجہ سے زیادہ ووٹ آج بھی برادری کے بزرگوں کے حکم سے دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں لغاری سردار ہی مقابلے میں ہیں اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو سردار جمال خان لغاری کا حلقے میں عوامی میل ملاپ اور سیاسی اثر و رسوخ سردار محمد خان لغاری اور سردار مقصود لغاری کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔
یاسین جمالی کا کہنا ہے این اے 192 نیا حلقہ ہے اس میں تحصیل کوٹ چھٹہ کے اکثریتی علاقے شامل ہیں جہاں گزشتہ الیکشن میں سردار اویس لغاری ایم این اے رہے تھے دوسرا چوٹی اور خانپور کا علاقہ ہے جہاں لغاری سردار یا پھر مسلم لیگ ن کو ہی گزشتہ الیکشنز میں فتح ملتی رہی۔
تحریک انصاف کے رہنما سردار سیف الدین کھوسہ کی حمایت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سردار سیف الدین کھوسہ سردار محمد خان لغاری کی حمایت ضرور کر رہے ہیں لیکن سیف الدین گزشتہ الیکشنز میں اکثر ان علاقوں سے ناکام ہوتے رہے سوائے 2008 میں ن لیگ کی طرف سے سیٹ حاصل کر سکے تھے۔
سیف الدین کھوسہ کی سردار محمد خان لغاری کی حمایت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس حلقے میں صوبائی سیٹ 291 پر اپنے بھتیجے محی الدین خان کھوسہ کو کھڑا کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اس حلقے کی دوسری صوبائی سیٹ 292 پر سردار محمد خان لغاری خود کھڑے ہو رہے ہیں۔
اس کے علاوہ دوسری پارٹیوں میں پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر غلام مرتضی این اے 192 پر میدان میں اُتر رہے ہیں لیکن ابھی صوبائی نشستوں پر پیپلز پارٹی کو کوئی امیدوار ہی نہیں ملا۔ ڈاکٹر غلام مرتضی ٰ تحصیل کوٹ چھٹہ سے تعلق رکھتے ہیں مگر سیاسی حوالے سے انتہائی غیر معروف شخصیت ہیں ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اب بس الیکشن لڑنے کے حوالے سے رسمی کاروائی ہی کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ ایم ایم اے کا ابھی کوئی امیدوار نظر نہیں آیا، باقی مختلف برداریوں سے چند آزاد امیدوار سامنے آ گئے ہیں جن میں پی پی 291 سے ارشد خان گورمانی اور اسلم سرکانی اس کے علاوہ پی پی 292 سے نعیم چنگوانی، علی محمد مستوئی اور صادق برمانی بھی شامل ہیں۔
سیاسی مبصرین این اے 192 میں میاں شہباز شریف کی فتح کے حوالے سے آراء رکھتے ہیں لیکن یہ سب کہنا قبل از وقت ہوگا۔
