اس حلقے کی پی پی 290 پر تقریباً اویس لغاری اور لغاری قبیلہ کے سرداروں کا مکمل کنٹرول ہے۔ ذیشان حیدر لغاری ان علاقوں میں اپنا اثر رکھتے ہیں۔ پچھلے الیکشن میں عبدالکریم کی جیت میں اہم کردار ذیشان حیدر لغاری کا تھا کیونکہ تمن لغاری کے علاقوں سے اس نے عبدالکریم کو فیصلہ کن ووٹ دلوائے تھے۔ وہ اس مرتبہ پھر لغاری چیف کے خلاف الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ تحریک انصاف کی امیدوار کو سپورٹ کر رہے ہیں جن کا نقصان یقیناً مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اویس لغاری کو ہوگا۔ 
اویس لغاری نے عید کے بعد سے اپنی کمپین شروع کر دی ہے۔ بلاک 17 میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ تمن لغاری کا آسان حلقہ انہوں نے شہباز شریف کو آفر کیا ہے اور وہ خود ایک مشکل حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اویس لغاری اپنی کمپین کو بہتر انداز سے چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں اور وہ بہت سجنیدگی سے شہر کے معززین کے پاس اپنی حمایت کیلئے جا رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے لوگ اس سیٹ پر بہت پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں مگر یہ تو 25 جولائی کو یہی معلوم ہوگا کہ اس حلقہ کے لوگ لغاری سرداروں کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں یا پاکستان تحریک انصاف یہاں سے جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ 
اس سیٹ کے سابقہ ایم این اے اور موجودہ سنیٹر حافظ عبدالکریم نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان کی یہ خاموشی مسلم لیگ (ن) کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ قیادت سے ناراض ہیں اس لیے وہ اویس لغاری کی حمایت نہیں کر رہے۔ شہر کا میئر اور اردگرد کی دوسری یونین کونسلز میں عبدالکریم کا ووٹ بینک ہے۔ اگر انہوں نے وقت پر کوئی فیصلہ نہ کیا تو ان کے لوگ اور ووٹر پاکستان تحریک انصاف کے کیمپ میں جا سکتے ہیں کیونکہ وہ لغاری سرداروں کو ہرگز ووٹ نہیں دینا چاہتے۔
 یہاں پر شہباز شریف کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ وہ تمن لغاری کے حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور لغاری سردار شہباز شریف پر دباؤ دے کر عبدالکریم کی حمایت حاصل کر سکتے ہں۔ اگر عبدالکریم نے لغاری گروپ کی حمایت کا اعلان کر دیا اور کھلے دل کے ساتھ الیکشن کمپین میں حصہ لیا تو اویس لغاری کے لیے یہ الیکشن آسان ہو گا۔ بصورت دیگر زرتاج گل شہر کے ووٹ بینک کی بدولت اس سیٹ پر اپ سیٹ کر سکتی ہیں۔