سردار فاروق خان لغاری کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں سردار جمال خان لغاری اور سردار اویس خان لغاری نے 2013ء کے الیکشن میں بالترتیب صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹ پر کامیاب ہوئے۔ سردار جمال لغاری جو کہ لغاری قبیلہ کے چیف ہیں ان کو قومی اسمبلی کے حلقے سے شکست ہوئی مگر وہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیت گئے۔
اویس لغاری سابقہ این اے 173 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور آخری چھ ماہ میں وفاقی وزیر برائے بجلی رہے۔
2018ء کے الیکشن کے لیے نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے سردار اویس لغاری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو این اے 192 سے الیکشن لڑنے کی دعوت دی اور وہ خود این اے 191 سے الیکشن لڑنے کی تیاری کر چکے ہیں۔
این اے 191 میں ڈیرہ غازیخان شہر کے علاوہ گدائی، پائیگاہ، سخی سرور، رونگھن، معموری اور فورٹ منرو کے علاقے شامل ہیں۔
اویس لغاری کے لیے یہ سیٹ اور اس کے بہت سے علاقے نئے ہیں۔ شہر میں اگرچے مسلم لیگ (ن) کے چیئرمینوں کی تعداد بہت ہے مگر وہ اویس لغاری کے سیاسی مخالف عبدالکریم کے چیئرمین ہیں۔
شہر کی سیٹ سے لغاری سرداروں کو ہمیشہ سے ہی ٹف ٹائم ملا ہے۔ اس کی ایک وجہ ان کا شہر میں نہ ہونا ہے۔ وہ لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں۔ اس لیے شہر کے لوگ لغاری سرداروں کو ووٹ دینے سے کتراتے ہیں۔
اگر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے شہر کی صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ عبدالعلیم شاہ کو ملتا ہے تو اس سے اویس لغاری کو فائدہ ہوگا کیونکہ شہر میں ان کا اپنا ووٹ بینک ہے اور کچھ چیئرمینز بھی عبدالعلیم شاہ کے گروپ سے ہیں۔
مگر شہر کی سیٹ سے عبدالعلیم شاہ کے علاوہ ڈپٹی میئر شیخ اسرار احمد بھی پی پی 289 سے ٹکٹ کے امیدوار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی نے ٹکٹ نہ دیا تو وہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیں گے جس سے اویس لغاری گروپ کو نقصان ہو سکتا ہے۔
تاریخی طور پر لغاری سرداروں کو شہر سے ووٹ کم ہی ملتا ہے۔ ان کا مضبوط گڑھ تمن لغاری اور دیہی آبادی پر مشتمل علاقے ہیں۔ پائیگاہ، سخی سرور، رونگھن، کھر اور فورٹ منرو کے علاقوں میں اویس لغاری کافی مضبوط امیدوار ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار زرتاج گل وزیر کے لیے مشکل ہوگا وہاں سے ووٹ حاصل کرنا۔
اگر عبدالکریم نے لغاری گروپ کی حمایت کا اعلان کر دیا اور کھلے دل کے ساتھ الیکشن کمپین میں حصہ لیا تو اویس لغاری کے لیے یہ الیکشن آسان ہو گا۔
اس حلقے کی پی پی 290 پر تقریباً اویس لغاری اور لغاری قبیلہ کے سرداروں کا مکمل کنٹرول ہے۔ ذیشان حیدر لغاری ان علاقوں میں اپنا اثر رکھتے ہیں۔ پچھلے الیکشن میں عبدالکریم کی جیت میں اہم کردار ذیشان حیدر لغاری کا تھا کیونکہ تمن لغاری کے علاقوں سے اس نے عبدالکریم کو فیصلہ کن ووٹ دلوائے تھے۔ وہ اس مرتبہ پھر لغاری چیف کے خلاف الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ تحریک انصاف کی امیدوار کو سپورٹ کر رہے ہیں جن کا نقصان یقیناً مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اویس لغاری کو ہوگا۔
اویس لغاری نے عید کے بعد سے اپنی کمپین شروع کر دی ہے۔ بلاک 17 میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ تمن لغاری کا آسان حلقہ انہوں نے شہباز شریف کو آفر کیا ہے اور وہ خود ایک مشکل حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اویس لغاری اپنی کمپین کو بہتر انداز سے چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں اور وہ بہت سجنیدگی سے شہر کے معززین کے پاس اپنی حمایت کیلئے جا رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے لوگ اس سیٹ پر بہت پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں مگر یہ تو 25 جولائی کو یہی معلوم ہوگا کہ اس حلقہ کے لوگ لغاری سرداروں کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں یا پاکستان تحریک انصاف یہاں سے جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
اس سیٹ کے سابقہ ایم این اے اور موجودہ سنیٹر حافظ عبدالکریم نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان کی یہ خاموشی مسلم لیگ (ن) کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ قیادت سے ناراض ہیں اس لیے وہ اویس لغاری کی حمایت نہیں کر رہے۔ شہر کا میئر اور اردگرد کی دوسری یونین کونسلز میں عبدالکریم کا ووٹ بینک ہے۔ اگر انہوں نے وقت پر کوئی فیصلہ نہ کیا تو ان کے لوگ اور ووٹر پاکستان تحریک انصاف کے کیمپ میں جا سکتے ہیں کیونکہ وہ لغاری سرداروں کو ہرگز ووٹ نہیں دینا چاہتے۔
یہاں پر شہباز شریف کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ وہ تمن لغاری کے حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور لغاری سردار شہباز شریف پر دباؤ دے کر عبدالکریم کی حمایت حاصل کر سکتے ہں۔ اگر عبدالکریم نے لغاری گروپ کی حمایت کا اعلان کر دیا اور کھلے دل کے ساتھ الیکشن کمپین میں حصہ لیا تو اویس لغاری کے لیے یہ الیکشن آسان ہو گا۔ بصورت دیگر زرتاج گل شہر کے ووٹ بینک کی بدولت اس سیٹ پر اپ سیٹ کر سکتی ہیں۔
