حالیہ الیکشن میں چار امیدوار ایک سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوئے جن میں تحریک انصاف کے عمران خان، میجر (ر) طاہر صادق اور غلام سرور خان جبکہ مسلم لیگ (ق) کے پرویز الہٰی شامل ہیں۔
عمران خان اسلام آباد، لاہور، کراچی، بنوں اور میانوالی سے جیتے۔ میجر (ر) طاہر صادق نے اٹک کے دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی جبکہ غلام سرور خان راولپنڈی کے دو حلقوں سے جیتے ہیں۔ پرویز الہٰی نے ایک نشست گجرات جبکہ ایک چکوال سے جیتی ہے۔
قومی اسمبلی میں حلف اٹھانے کے بعد ان ارکان کو ایک ہی نشست اپنے پاس رکھنا ہو گی جبکہ چھوڑی گئی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہو گا۔ علاوہ ازیں اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے وقت ان ارکان کا ایک ووٹ ہی گنا جائے گا۔
یوں دیکھا جائے تو وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر تحریک انصاف کی 6 نشستیں کم ہو کر 116 سے 110 پر آ جائیں گی جبکہ اس کی اتحادی (ق) لیگ کی بھی چار میں سے ایک سیٹ کم ہو رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں آزاد ارکان کی تعداد 13 ہے جن میں 10 ممکنہ طور پر تحریک انصاف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ تمام پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں تو اس صورت میں اس کی مجموعی سیٹیں 120 تک پہنچتی ہیں۔ یوں تحریک انصاف وزارت عظمیٰ کے لیے 120 نشستیں لے کر چلے گی۔
