بھارت میں سب آلٹرن سٹڈی کی تحریک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تقسیم کی تاریخ کو نئے سرے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ان کا خیال ہے کہ تقسیم کی جو تاریخ لکھی اور بیان کی گئی ہے وہ طبقہ اشرافیہ کے نقطہ نظر سے بیان کی گئی ہے، اس میں عوام کا موقف دکھائی نہیں دیتا۔جیسا کہ ایڈورڈ سعید نے بھی کہا تھا کہ ہندوستان کی تاریخ کے سرکاری بیانے میں سے یہ حصہ غائب ہے۔
تقسیم کے نتیجے میں جو تشدد پھوٹا اس کا شکار سب آلٹرن کلاس زیادہ بنی۔یہ کلاس نہ صرف تشدد کا شکار ہوئی بلکہ پارٹیشن کے بعد جو ریاستیں وجود میں آئیں اس میں بھی اس کلاس کو بلواسطہ اور بلا واسطہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔بلا واسطہ وہ تشدد تھا جو اس طبقہ پر نو آزاد ریاست کے سماج کی تشکیل نو اور اداروں نے کیا۔
تاہم تقسیم کے بعد تقسیم کے موضوع پر جو ادب لکھا گیا اس نے بڑی حد اس تقسیم کو عوامی اور خاص طور پر محکوم طبقات کے نقطہ نظر سے پیش کیا ہے۔
اس ادب نے تقسیم میں فسادات کی شکل میں ہونے والے بلواسطہ تشدد اور تقسیم کے بعد نو آزاد ریاستوں میں ہونے والے سیاسی اور سماجی تشکیل نو، اداروں اور بیورو کریسی کے ذریعے ہونے والے بلا واسطہ تشدد کو بھی موضوع بنایا ہے۔
مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آنے والوں کی کہانی تو ہمیں اردو ادب سنا دیتا ہے لیکن اُس سائیڈ پہ جانے والوں کی کہانی اکثر ہمیں نامعلوم رہتی ہے۔
ہجرت کرکے بھارت جانے والی ہندو، سکھ اور دیگر قومیتوں کی کہانی اور تاریخ کی ڈاکومنٹیشن ہمیں ہندی ادب میں لکھے گئے ناولوں میں ملتی ہے۔
ہندی ادب میں سب آلٹرن کلاس کے نقطہ نظر کو پیش کرنے کے حوالے سے جو دوناول اہم تصور کیے جاتے ہیں ان میں بھشم سہانی کا ناول ’تمس‘(اندھیرا) اور یش پال کا ناول ’جھوٹا سچ‘ شامل ہیں۔
’تمس‘ راولپنڈی میں ہونے والے ہندو مسلم اور سکھ فسادات کے چار دنوں کو موضوع بناتا ہے جس کی بظاہر وجہ نتھو چمار بنتا ہے جو ایک موقعہ پرست اور ابن وقت قسم کے انسان مراد علی سے چار روپے لے کر سور کو مارتا ہے۔جسے مراد علی اٹھوا کر مسجد میں پھنکوا دیتا ہے۔
یہی واقعہ راول پنڈی میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ بنتا ہے جس سے برطانوی افسر چشم پوشی کر لیتا ہے اور شہر میں چار دن تک ہندو مسلمان اور سکھ ایک دوسرے کا خون بہاتے رہتے ہیں۔
فسادات میں ہونے والا تشدد معاشرتی طبقات کی مختلف پرتوں میں کیسے پھیلتا ہے اسے ناول خوبصورتی سے اور بڑی حد تک غیر جانبدارانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔
یہ فساد نتھو چمار کو مسلسل ایک احساس گناہ میں مبتلا کر جاتا ہے جو خود کو کوستا رہتا ہے کہ فسادات اس کی وجہ سے شروع ہوئے اور اگر وہ چار روہے کے بدلے سور کو نا مارتا تو اتنی بڑی ٹریجڈی ٹل سکتی تھی۔
ناول فسادات کو ختم کروانے میں کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ہونے والی کوششوں کو بھی ڈاکومنٹ کرتا ہے جو مسلم لیگ کے حیات خان اور کانگریس کے جوشی کو فسادات ختم کروانے کے لیے ایک پیج پہ لے آتی ہے۔
اردو ادب میں کمیونسٹوں کا پارٹیشن میں کردار موجود تو ہے لیکن اسے کسی اور ہی رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور بڑی حد تک اس کردار کو محدود یا مارجن لائز کر دیا گیا ہے۔
پارٹیشن پر ہندی ادب کا جو ناول جسے پارٹیشن کا ’وار اینٖڈ پیس‘ کہا جاتا ہے وہ یش پال کا ’جھوٹا سچ‘ ہے۔یہ ناول دو حصوں پر مشتمل ہے پہلے حصے کا عنوان ’دیش اور وطن‘ ہے جبکہ دوسرے حصے کا عنوان ’دیش کا بھویش‘ ہے۔
پہلا حصہ لاہور میں ہونے والے ہند مسلم فسادات پر مشتمل ہے۔کہانی کا مرکزی پلاٹ ایک لوئر مڈل کلاس فیملی کے گرد گھومتا ہے۔اس کے علاوہ طبقہ اشرافیہ اور دیگر طبقات کی کہانیاں سب پلاٹس کی صورت میں موجود ہیں۔
ناول لوئر مڈل کلاس اور پسے ہوئے طبقے پر ہونے والے جسمانی اور معاشی تشدد کو مربوط انداز میں پیش کرتا ہے۔
کوشلیا دیوی کو کانگریس تقسیم میں گم شدہ عورتوں کی تلاش کا کام سپرد کرتی ہے۔وہ ناول کی ہیروئن تارا کو بازیاب کروا کے لے جاتی ہے۔جب وہ راستے میں ملنے والے مسلمانوں کے قافلوں پہ تبصرہ کرتی ہے تو اس کا سِکھ ڈرائیور اسے جواب دیتا ہے:
’ہندو اور سکھ لائے ہیں بکسے، صندق، نقدی، زیور اور بانڈ ۔۔۔ یہ لوگ مٹی کے حقے، ٹوٹی چار پائیاں، چولھے، چکی، مرغیاں لیے چل رہے ہیں۔ یہی ان کی گرہستی تھی۔جس کے پاس جو کچھ ہوگا اسی کے ممتا کرے گا وہی اٹھا کر لے جائے گا۔ٹھیک ہی کہتے تھے، ہوت کا نام ہندو،مفلسی کا مسلمان‘(صفہ 478)۔
’لیکن ہندو سیکڑوں برس سے ان کو لوٹتے نچوڑتے چلے آ رہے ہیں۔نہیں تو ایک ہی زمین پر رہنے والوں میں امیری غریبی کا اتنا فرق کیوں ہوتا؟ پنجاب کی سب جائیداد ہندوؤں کے ہاتھوں میں کیوں چلی جاتی ہے؟ غریب پہلے غصے میں مسلمان ہوا، دوسرا غصہ یہ ہے۔غصہ مذہب کا بھی ہے لیکن غریبی کا بھی بہن جی !‘(صفحہ 479 )۔
پارٹیشن میں تشدد کا بڑا شکار خواتین بنیں اور ان میں اکثریت پنجابی خواتین کی تھی۔ان خواتین کو جسمانی اور جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ پدر سری معاشرے کے سٹرکچرل وائلس کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
’بانس اٹھا کر چلنے والے آدمی کے سامنے بھی ہاتھوں سے چہرے کو چھپائے چار پانچ ننگی عورتیں دھکیلی جا رہی تھیں۔یہ لوگ مسلم قافلے کو فحش گالیوں سے للکار رہے تھے ’لے جاؤ! لے جاؤ! اپنی ماؤں بیٹیوں کو پاکستان لے جاؤ۔‘
’وہ ان کی ماؤں، بیٹوں کو بے عزت کریں یہ ان کی ماؤں بیٹیوں کو بے عزت کریں۔ماں بیٹیاں برباد ہونے کے لیے ہی ہیں‘ تارا کو بنتی کی آہ بھری آواز سنائی دی۔‘
یہی بنتی جب دلی میں اپنے خاندان کو ڈھونڈ لیتی ہے تو وہ اس کا شوہر اس وجہ سے اپنانے کے انکار کر دیتا ہے کہ وہ پاک صاف نہیں رہی۔یہ پدری سری معاشرہ ہی ہے جس نے پاک باز اور پویترتا کو برقرار رکھنے کا سارا بوجھ عورت کے سر پہ رکھ دیا ہے۔بنتی اس کے خلاف احتجاج کرتی ہوئی اپنے شوہر کے گھر کی چوکھٹ کے ساتھ ٹکریں مار مار کر خود کو ختم کر لیتی ہے۔
ناول میں بتایا گیا ہے کہ مہاجر کیمپوں کے اندر خواتین کو جسمانی اور جنسی تشدد کے ساتھ معاشی تشدد اور استحصال کے خلاف بھی لڑنا پڑتا ہے۔مہاجر کیمپوں میں اکیلی رہ جانے والے عورتیں ہر طرح کا کام کرنے کو تیار ہو جاتی ہیں جس سے وہ اپنا اور بچوں کا پیٹ بھر سکتی ہوں۔
پارٹیشن کے بعد اشرافیہ دولت جائیداد اور اختیارات کی بندر بانٹ کا جو کھیل شروع کرتی ہے وہ ایک نئی قسم کے تشدد کو جنم دیتا ہے جو پارٹیشن سے پیدا ہونے والی امید کو ایک نئی قسم کی نا امیدی میں بدل دیتا ہے۔
یہ وہ اذیت تھی جس کا سامنا پارٹیشن کے بعد کی نسل نے کیا تھا لیکن یش پال چونکہ پسے ہوئے طبقے کی طاقت پہ یقین رکھتے ہیں اس لیے وہ ناول کے آخر پہ سٹیٹمنٹ دیتے ہیں کہ پسے ہوئے طبقات اپنی ایکتا کے ساتھ ’سٹیس کو‘ کی قوتوں کو شکست دے کر ایک نئے سماج کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
تقسیم پہ لکھے گئے ان ناولوں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ 1947ء کی جو تاریخ لکھی گئی ہے اس میں سے عوام اور چھوٹے طبقات کا بیانیہ یکسر غائب ہے۔
ہماری تاریخ آزادی کی رات ہونے والے اشرافیہ کے جشن کو تو بیان کر دیتی ہے لیکن مہاجر کیمپوں میں دبائی جانے والی آہوں اور سسکیوں کا احوال کم ہی سناتی ہے اور خواتین کے مصائب تو بالکل غائب کر دیے گئے ہیں۔
