آج کے کسی شہر کو اس کے ماضی میں جاکر دیکھنا دلچسپ موضوع رہاہے۔کون ساشہر آج سے 50 برس قبل یا 100 برس پہلے کیسا تھا؟ اس کے در و دیوار کیسے تھے؟ باسیوں کا مزاج، بود و باش اور طرز زندگی کیا تھی؟ اسے کھوجنا ہمیشہ سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
سو، پچاس برس کاحوالہ تو برسبیل تذکرہ ہے وگرنہ شہروں کی سیکڑوں، ہزاروں سال پرانی تاریخ محققین کا محبوب موضوع رہی۔
ہرسال جب بھی ہم پاکستان کاجشن آزادی مناتے ہیں، ایک سوال ذہن میں ضرور ابھرتا ہے کہ 1947ء میں جب پاکستان قائم ہوا اورجب یہ خطہ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا، اس وقت ملتان کیسا تھا اور یہاں کے لوگوں نے کیسے اس دن کو منایا؟ وہ دن جب ہمیں غلامی سے نجات ملی، وہ دن جب ہم نے پہلی بار آزاد فضا میں سانس لیا۔جب زنجیریں ٹوٹیں تو ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت کا امین ملتان کیسا تھا اور آزادی کا اعلان سنتے ہوئے یہاں کے لوگوں نے کیا محسوس کیا؟
ملتان کے بارے یہ کھوجنا اس لیے بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ پانچ ہزارسال کی معلوم تاریخ رکھنے والایہ شہرکوئی پہلی بار توآزاد نہیں ہواتھا۔یہاں کئی حکمران آئے اوریہاں کے لوگوں پرحکمرانی کر کے چلے گئے۔بادشاہ ، راجے، مہاراجے، نواب ۔۔۔ سب اس شہر پر حکمران رہے۔
ہر تبدیلی خونریزی پر ختم ہوتی۔یہاں کے لوگوں نے بارہا غلامی کا طوق گلے میں ڈالا اور بار ہا اس سے نجات حاصل کی لیکن آخری بار جب انہوں نے انگریز کی غلامی سے آزادی حاصل کی تو ان کے جذبات کیسے تھے؟کیا محسوس کیا تھا انہوں نے؟ اور اس آزادی کا جشن کس ڈھب سے منایاتھا؟ یہ ہمارا آج کا موضوع ہے لیکن یہ احوال سنانے سے پہلے ہمیں ایک نظر اس جدوجہد پر ڈالنی ہے جس کے نتیجے میں آزادی کا سورج ہمیں دیکھنا نصیب ہوا۔
1947ء میں جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا ملتان شہر کی آبادی جو اب 18 لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے صرف 87 ہزار 394 نفوس پرمشتمل تھی جبکہ ضلع ملتان کی آبادی جو اب 45 لاکھ سے زیادہ ہے ایک لاکھ 35 ہزار تھی۔
ملتان شہر میں مسلمانوں کی آبادی 56فیصد اورہندوﺅں سمیت باقی مذاہب کے لوگوں 44 فیصدتھے۔ملتان کی میونسپل کمیٹی کی آدھی نشستیں مسلمانوں اور آدھی ہندوﺅں کے پاس تھیں لیکن ہم بات کا آغاز 1936ء کے نومبر سے کرتے ہیں۔یہ وہ مہینہ ہے جب ملتان میں آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی شاخ قائم ہوئی۔
عزیز احمد مرزا اس کے پہلے ضلعی صدر اور سعید احمد شاہ بخاری ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ دیگر عہدیداروں میں محمد اکرم خان پراپیگنڈہ سیکرٹری اور ڈاکٹرعبدالستار حامد (جو بعد میں ملتان کے معروف نیوز ایجنٹ رہے )شامل تھے۔
1939ء مسلم لیگ ملتان کی سرگرمیاں سعیداحمد شاہ بخاری کے گھر تک محدود رہیں جو گھنٹہ گھر کے عقب میں واقع تھا۔سید زین العابدین شاہ گیلانی مسلم لیگ میں شامل ہوئے تواس جماعت میں ایک تحرک پیدا ہوا۔
زین العابدی شاہ گیلانی کو ملتان کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔وہ مسلمانوں کے ایک مقبول لیڈر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے اور ان کی جماعت انجمن فدایان اسلام مسلمانوں کے حقوق کے لیے سرگرم تھی۔
بعد میں انہوں نے انجمن فدایان اسلام کو بھی مسلم لیگ میں ضم کردیا۔اسی برس علی حسین شاہ گیلانی، ولایت حسین شاہ گیلانی، رحمت حسین شاہ گیلانی، عبدالکریم قاصف اور مختارحسین شاہ گردیزی بھی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔یہ سب لوگ بعد ازاں پارٹی کے مختلف عہدوں پرفائز رہے اور تحریک پاکستان کے ہراول دستے میں ان کاشمار ہوا۔
تئیس مارچ 1940ء کے تاریخی اجلاس سے قبل ملتان میں مسلم لیگ کے انتخابات میں سید زین العابدین شاہ گیلانی کو پارٹی کاضلعی صدر منتخب کر لیا گیا۔ملتان سے کارکنوں اور رہنماﺅں کاجو وفد لاہور کے تاریخی اجلاس میں شرکت کے لیے گیا اس کی قیادت زین العابدین شاہ گیلانی نے ہی کی تھی۔
اس دوران ملتان میں مسلم لیگ سٹی کاقیام عمل میں آیا۔جلیل شاہ گردیزی اور حافظ محمداعظم خان خاکوانی اس کے عہدیدار منتخب ہوئے۔1942ءمیں غلام قاسم خان خاکوانی (جو بعد میں ملتان کے میئر بنے) مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔
مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ملتان کے ابتدائی عہدیداروں میں علی نوا ز گردیزی ، چوہدری ذوالفقار، غلام قاسم شاہ، علی حسین شاہ گردیزی اور صاحبزادہ فاروق علی خان (جو بھٹودور میں قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے ) شامل تھے۔دوسری جانب خواتین کومتحرک کرنے کے لیے مسلم لیگ ملتان کے پہلے جنرل سیکرٹری سعید احمد شاہ بخاری کی ہمشیرہ زبیدہ جعفری میدان میں آگئیں۔
ان تمام رہنماﺅں کی کوششوں کے نتیجے میں مسلم لیگ ملتان میں ایک مقبول جماعت کی حیثیت اختیار کر گئی ۔سٹی مسلم لیگ کا دفتر پُل شوالہ میں قائم ہوگیا اور پاک گیٹ، کڑی افغاناں، مسجد ولی محمد، سوتری وٹ، قدیر آباد، بوہڑ گیٹ، لوہاری گیٹ کے علاقے مسلم لیگ کی سرگرمیوں کامرکز بن گئے۔
وہ مسلم لیگ جو پہلے صرف ایک مکان تک محدود تھی اب اس کے جلسے بھی منعقد ہونے لگے۔عام خاص باغ، باغ لانگے خان اور عید گاہ گراﺅنڈ مسلم لیگ کے جلسوں کا گڑھ بن گئے۔ان جلسوں میں مختلف شہروں سے بھی رہنما خطاب کےلیے آتے تھے۔ان رہنماﺅں میں ممتاز احمد خان دولتانہ، سردار شوکت حیات خان، عبدالستار خان نیازی، عاشق حسین بٹالوی اور پروفیسر عنایت اللہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
ایم ایس ایف نے ایمرسن کالج کو(جو چوک کچہری میں اس جگہ قائم تھا جہاں اب گرلز یونیورسٹی موجود ہے) سرگرمیوں کامرکز بنایا۔
ایم ایس ایف نے ایمرسن کالج کو(جو چوک کچہری میں اس جگہ قائم تھا جہاں اب گرلز یونیورسٹی موجود ہے) سرگرمیوں کامرکز بنایا۔
جیسے جیسے تحریک زور پکڑتی گئی ملتان میں جلسے جلوس شدت اختیار کر گئے۔ہندوﺅں اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپیں ہونے لگیں، کبھی بوہڑ گیٹ اور کبھی چوک بازار میں بلوہ ہوجاتا۔ایسی ہی ایک لڑائی کے دوران حسن پروانہ قبرستان کے عقب میں واقع سبزی منڈی کو نذر آتش کر دیا گیا۔آگ کے شعلے شہر میں دور تک دکھائی دیتے تھے۔
پچیس جنوری 1947ء کو پنجاب یونینسٹ حکومت کے خلاف عیدگاہ گراﺅنڈ میں بڑ اجلسہ ہوا جس میں مسلم لیگ کے تمام عہدیدار شریک ہوئے۔جلسے کے بعد دفعہ 144کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس نکالا گیا۔جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کی ساری قیادت گرفتار ہوگئی۔
وقت گزرنے کے ساتھ تحریک میں شدت آتی گئی۔خواتین، نوجوان اور بچے، بوڑھے سب اس تحریک میں شامل ہوگئے اور پھر وہ تاریخ ساز لمحہ آیاجب پاکستان حقیقت بن گیا۔
چودہ اگست کی شب جب ریڈیو سے پاکستان کے قیام کا اعلان نشر ہوا تو اس رات ملتان جاگ رہا تھا۔مختلف بازاروں اور محلوں میں لوگ یہ اعلان سننے کے لیے جمع تھے۔ایک شور تھاکہ جس میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
اکہتر برس پہلے کے ملتان میں رات اس طرح نہ جاگتی تھی جیسے اب جاگتی ہے۔ لوگ آٹھ نو بجے گھروں کو چلے جاتے تھے۔بجلی ہر گھر میں موجود نہیں تھی۔گلی محلے ویران ہو جاتے تھے لیکن اس رات سب جاگ رہے تھے۔لوگ گلیوں میں گھوم رہے تھے اور 12 بجنے کا انتظار کر رہے تھے۔
اس تمام تر چہل پہل کے باوجود ایک خاموشی تھی۔انتظار کے لمحات تھے کہ جو گزر ہی نہیں رہے تھے اور انتظار کرنے والوں میں عورتیں بھی شامل تھیں اور بچے بھی۔عورتیں اپنے گھروں میں ریڈیو کے گرد بیٹھی تھیں اور پھر جیسے ہی آزادی کا لمحہ قریب آیا لوگ مختلف مقامات پر جمع ہونا شروع ہوگئے۔
بوہڑگیٹ، پُل شوالہ، سوتری وٹ، پاک گیٹ، لوہاری گیٹ، کڑی افغاناں، گھنٹہ گھر، چوک بازار میں ریڈیو کے گرد ہجوم بڑھنے لگا اور پھر وہ لمحہ آگیا جب غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں۔
اناؤنسر کی آواز گونجی ’یہ ریڈیو پاکستن ہے ۔۔۔‘ پاکستان کا نام سنتے ہیں سناٹا ختم ہوگیا۔وہ گلی کوچے جہاں چند لمحے پہلے خاموشی تھی، پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھے۔
آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔خوشی کے آنسو، ان دکھوں سے نجات کے آنسو جنہیں ملتان کے باسی صدیوں سے جھیل رہے تھے۔لوگ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔دھرتی کے بیٹے اب دھرتی کے مالک بن گئے تھے۔وہ سر اٹھا کر جینے کے قابل ہوگئے تھے۔
اس رات آسمان پر چاند موجود نہیں تھا وہ اماوس کی رات تھی مگر ملتان ہی نہیں برصغیر کے تمام مسلمانوں کےلیے وہ رات اپنے دامن میں بہت سی روشنیاں سمیٹ کرلائی تھی۔دور کسی محلے میں ایک ڈھول بجا اور پھر اماوس کی اس روشن رات میں زندگی جھومر ڈالنے لگی۔
