وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی ہدایت پر صوبہ بھر میں گندم خریداری مہم 2019 کا آغاز کیا جارہاہے۔کاشتکاروں کو ان کی محنت کا نعم البدل تو نہیں دیا جا سکتا تاہم مالی اخراجات اور معاشی حالات بہتر کرنے کے لئے گندم کے 1300روپے فی چالیس کلوگرام سرکاری نرخ مقرر کردئے گئے ہیں.
زراعت ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی واضح ہدایات ہیں کہ آنے والی گندم خریداری مہم کو ہرسطح پر شفاف بنایا جائے۔ کسانوں کا معاشی استحصال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔سنٹر کوآرڈینیٹر کے لئے اچھی شہرت کے حامل افسران منتخب کئے جائیں جس کے لئے سپیشل برانچ،انٹی کرپشن ،پولیس اور دیگر محکموں سے رپورٹ لے کر سنٹر کوآرڈینیٹر مقرر کئے جائیں۔تمام سنٹرز پر کاشتکاروں کے لئے پانی،سایہ،پنکھے اور دیگر بہتر سہولیات میسر ہونی چاہیئے۔
گندم خریداری پالیسی2019کی اب تک کی پالیسی کے مطابق 8 سے 17اپریل تک صبح آٹھ سے شام چار بجے تک بغیر وقفہ اور اتوار کی چھٹی کے سادہ کاغذ پر کاشتکاروں سے باردانہ کے لئے درخواستیں وصول کی جائیں گی۔باردانہ کے لئے نام،جگہ، گردآوری،شناختی کارڈ ،موبائل فون نمبر لازمی قرار دیئے گئے ہیں۔ صوبہ کے تمام اضلاع میں آٹھ اپریل تک تمام انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ضلع جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز تحصیل کے گندم خریداری آفیسر ہوں گے۔حکومت پنجاب نے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کو گندم خریداری کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کردیا ہے۔ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں نگران کمیٹی تشکیل دی جائیگی جس میں ڈی پی او،ای ڈی او زراعت،ڈی ایف سی،کاشتکار تنظیم،متعلقہ رکن قومی و صوبائی اسمبلی کا نمائندہ شامل ہوگا۔تحصیل کمیٹی میں اسسٹنٹ کمشنر سربراہ،ڈی ایس پی،زراعت آفیسر،کاشتکار،ایم این اے،ایم پی اے کا نمائندہ شامل ہوگا.سنٹر سطح کی کمیٹی میں کوآرڈینیٹر،کاشتکار،ایم این اے،ایم پی اے کا نمائندہ شامل ہوگا۔کمیٹی کاشتکاروں کے اعتراضات دور کرے گی۔ضلعی اور تحصیل سطح پر کنٹرول روم فنکشنل کرکے شکایات سیل کے نمبرز کی باقاعدہ عوامی تشہیر کی جائیگی۔تمام سنٹرز پر مینول کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب ہوگا۔اور روزانہ کا ڈیٹا پنجاب انفارمیش ٹیکنالوجی بورڈ پر اپ لوڈ کیا جائیگا۔روزانہ کی بنیاد پر سنٹرز پر متعلقہ کاشتکاروں کی فہرستیں آویزاں ہوں گی۔ایس این اے اور ،ڈی ایف سی اور دیگر کی پی آئی ٹی بی کے ذریعے تربیت کی جائیگی۔۔پی ایل آر اے کی 20 اپریل تک تصدیق ہوگی۔اور کیبنٹ کمیٹی 21 اپریل تک حتمی فیصلہ کرے گی۔22 اپریل کو باردانہ جاری کرنے کا آغاز ہوگا۔کاشتکاروں کو دس ایکٹر تک کا باردانہ دیا جائیگا۔
ضلع ڈیرہ غازیخان میں نو خریداری مراکز ڈیرہ غازیخان،چوٹی زیریں،کوٹ چھٹہ،تونسہ،رند اڈا،شاہ صدردین،شادن لنڈ،ٹبی قیصرانی اور ریتڑہ میں بنائے گئے ہیں جہاں سے تقریبا 14ہزار میٹرک ٹن گندم خریدی جائیگی.


