
بے نظیر پل
جنوبی پنجاب کے دو اضلاع رحیم یار خان اور راجن پور کو ملانے کے لیے دریائے سندھ پر بننے والا پل 1950ء سے زیر تعمیر تھا۔
1950ء میں اس وقت کے گورنر پنجاب اور قائد اعظم کے دیرینہ ساتھی سردار عبد الرب نشتر نے چاچڑاں شریف ضلع رحیم یار خان میں اس پل کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ ان کے نام کی تختی آج بھی چاچڑاں شریف میں لگی ہوئی ہے اسی وجہ سے اس مقام کو نشتر گھاٹ کہتے ہیں۔
اس جگہ پر کشتی پل بنایا گیا تھا مگر وہ چند ماہ چلتا تھا۔ باقی ماہ لوگ کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے یا انھیں گڈو بیراج اور غازی گھاٹ پل کا طویل سفر کرنا پڑتا تھا۔
اس پل کی تعمیر سے جنوبی پنجاب کے دو اضلاع رحیم یار خان اور راجن پور کے درمیان فاصلہ 300 کلو میٹر سے کم ہو کر صرف 20 کلو میٹر رہ گیا ہے۔
اس پل کے مشرق میں رحیم یارخان والی طرف چاچڑاں شریف اور مغرب میں راجن پور کی طرف کوٹ مٹھن کا قصبہ واقع ہے۔
عظیم صوفی شاعر خواجہ غلام فرید کا مقبرہ کوٹ مٹھن میں واقع ہے۔ ریاست بہاولپور میں خواجہ غلام فرید کے عقیدت مندوں کی سہولت کے لئے نواب آف بہاولپور نے ستلج کوئین نامی ایک بحری جہاز نشتر گھاٹ پر کوٹ مٹھن اور چاچڑاں کے درمیان مسافروں کو آر پار پہنچانے کے لئے بھیج دیا تھا۔
اس ستلج کوئین کو یہان انڈس کوئین کا نام دیا گیا تھا۔ انڈس کوئین 1996ء میں ہائی وے ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی عدم توجہی کا شکار ہو کر چلنے کے قابل نہ رہا۔

انڈس کوئین
پل نہ بننے سے ان اضلاع کے عوام کو دریائے سندھ کے پار جانے کے لیے 3 سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا اور اگر یہ پل بن جاتا تو ان دونوں اضلاع کا درمیانی فاصلہ 20 کلو میٹر رہ جاتا۔
کوٹ مٹھن شریف اور چاچڑاں شریف کے درمیان نشتر گھاٹ کے مقام پر دریائے سندھ پر بننے والا یہ پل 1950ء سے حکومتی عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔
کوٹ مٹھن شریف میں عظیم صوفی شاعر اور بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کا مزار ہے جو پورے سرائیکی خطے میں بسنے والے ہر نسل اور مذہب کے لوگوں کے لیے باعث عقیدت ہے۔
حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے چاہنے والوں کی ایک بڑی اکثریت سابقہ ریاست بہاول پور کے اضلاع رحیم یار خان اور بہاول پور کے علاوہ دیگر سرائیکی اکثریتی اضلاع مظفر گڑھ، ملتان اور لیہ میں بستی ہے۔
کوٹ مٹھن شریف اور چاچڑاں شریف کے درمیان دریائے سندھ پر پل نہ بنا کر حکمرانوں نے درحقیقت حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے چاہنے والوں کے ساتھ شدید زیادتی کی ہے۔
حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے چاہنے والے ایک عرصے سے نشتر گھاٹ پر پل بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو محسوس ہوتا تھا کہ اس خطے کی عوام کا سب سے بڑا مطالبہ نشتر گھاٹ پر پل کی تعمیر تھا۔
1950ء کے بعد کے جمہوری دور اور ایوبی آمریت میں بھی پل بنانے کا وعدہ وفا نہ ہوا۔ بھٹو دور میں پل بن جانے کے امکانات بہت روشن تھے کیونکہ سرائیکی خطے کے لوگوں نے بھٹو کو بہت پیار سے نوازا، مگر بھٹو دور میں یہ منصوبہ سرد خانے میں پڑا رہا۔
شہید بے نظیر پل کے بننے سے ہمارے علاقے میں معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔" زمان خان مزاری، مقامی سردار"
ضیا کے دور میں بھی اس منصوبے پر زبانی وعدے ہوتے رہے۔ 1988ء میں بے نظیر بھٹو شہید کے پہلے دور میں سرائیکیوں نے بینظیر بھٹو سے اپنی محبت کا حق ادا کر دیا مگر پل نہ بن سکا۔
نواز شریف کے پہلے دور میں بات زبانی وعدوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے مخدوم شہاب الدین وزیر خزانہ تھے اور ان کی کاوشوں سے نشتر گھاٹ پل کی تعمیر کے لیے 77 کروڑ روپے مختص کیے گئے مگر اس سے پہلے کہ اس پر کام کا آغاز ہوتا، بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم کر دی گئی۔ اور نشتر گھاٹ پر پل بننے کی امیدیں بھی دریائے سندھ میں ڈوب گئیں۔
نواز شریف کے دوسرے دور میں عوام کو نشتر گھاٹ پر پل بننے کی زیادہ امید نہ تھی کیونکہ نواز شریف لاہور سے اسلام آباد موٹر وے بنانے اور اپنے کارخانے لگانے میں بہت زیادہ مصروف تھے۔ نشتر گھاٹ پر کشتیاں الٹتی رہیں اور مظلوم سرائیکی ڈوب کر مرتے رہے، مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔
مشرف دور میں اعلان ہوا کہ نشتر گھاٹ پر بڑا پل بنے گا اور ساتھ بیراج بھی اور کچھی کینال یہیں سے نکالی جائے گی مگر بیورو کریسی کو اپنا کمیشن زیادہ عزیز تھا، اس لیے کچھی کینال دو سو کلو میٹر دور تونسہ بیراج سے نکالی گئی، اور اب کچھی کینال ایک اور دریا بن کے اس خطے کو دو حصوں میں تقسیم کرچکی ہے۔
مشرف کے نو سالہ دور میں جب پرویزالہی پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اور اس علاقے کے بڑے بڑے سردار اور جاگیر دار وفاق اور پنجاب میں شریک اقتدار تھے، نشتر گھاٹ دریائے سندھ پر پل تعمیر نہ ہو سکا۔
دریا کی دونوں جانب وڈیرے اور جاگیردار پل بنوانے کے وعدوں پر ووٹ حاصل کر کے اسمبلی پہنچتے رہے مگر یہ بد قسمت پل وعدوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔
آخر خدا خدا کر کے مشرف رخصت ہوئے اور بے نظیر کی شہادت کے طفیل یوسف رضا گیلانی 2008ء میں ملک کے وزیر اعظم بن گئے تو لوگوں نے یہ امید لگائی کہ یوسف رضا گیلانی نشتر گھاٹ کا پل چند ماہ میں بنا کر خطے کے حقیقی محسن ہونے کا ثبوت دیں گے۔

1950ء میں اس وقت کے گورنر پنجاب اور قائد اعظم کے دیرینہ ساتھی سردار عبد الرب نشتر نے اس پل کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔
ملتان میں چند فلائی اور اور دریائے چناب پر اپنے حلقے میں ہیڈ محمد والا پل بنانے کے علاوہ وہ پورے خطے میں ایک کیڈٹ کالج، ایک نئی یونیورسٹی، کوئی نیا ہسپتال اور کوئی نئی ایکسپریس ہائی وے نہ بنا سکے۔
یوسف رضا گیلانی چاہتے تو نشتر گھاٹ کا پل ایک سال کے اندر بن سکتا تھا مگر بننا تھا نہ بن سکا۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ خدا خدا کر کے نشتر گھاٹ پر شہید بے نظیر کے نام سے منسوب پل کی تعمیر کے کام کا سنگ بنیاد دوبارہ رکھا گیا۔ بجٹ مختص ہوا، کام شروع ہو گیا۔
اسی دوران لاہور میں 90 دنوں کے اندر مسلم ٹاؤن میں فلائی اور بن گیا، دو ماہ کی مدت میں کلمہ چوک فلائی اور بن گیا، نو ماہ میں میٹرو بس بن گئی، مگر یوسف رضا گیلانی کے چار اور راجہ پرویز اشرف کے ایک سالہ اقتدار میں نشتر گھاٹ پر شہید بے نظیر پل نہ بن سکا۔
تعمیراتی کام چیونٹی کی رفتار سے چلتا رہا اور 2013ء میں نواز شریف برسر اقتدار آ گئے۔ اسلام آباد اور پنڈی میں ایک سال کے اندر اربوں روپے کی لاگت سے میٹرو بس بن گئی، ملتان میٹرو بس بن چکی مگر نشتر گھاٹ پر شہید بے نظیر پل پر پچھلے آٹھ سالوں سے کام جاری رہا۔
دریا کے بیچ میں پل ستونوں پر کھڑا ہو چکا تھا مگر دریا کے دونوں کناروں پر نہ ریمپ بنے تھے اور نہ ہی دونوں کناروں پر پختہ سڑک کی تعمیر جلد ممکن ہوئی۔
اب حکومت کی مدت پوری ہونے سے چند دن پہلے 26 مئی کو وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے راجن پور میں دریائے سندھ پر بننے والے شہید بے نظیر پل اور نامکمل سڑک کا جلد بازی میں افتتاح کیا مگر سڑک ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔ اس پل سے جڑے لنک روڈ انڈس ہائی وے این 55 اور لاہور کراچی روڈ این 5 کو آپس میں ملاتے ہیں۔

کشتی پل
مقامی صحافی منصور سنجرانی کہتے ہیں،ا یسالگتا تھاکہ نشتر گھاٹ پر 68 سال سے بننے والا یہ شہید بے نظیر پل شاید اگلے 68 سالوں میں بھی نہ بن سکے۔ مگر اب اس شہید بے نظیر پل کے دونوں جانب سڑک جزوی طور پر مکمل ہو چکی ہے۔جزوی طور پرٹریفک بھی چل پڑی ہے۔
یہاں کے مقامی سردار زمان خان مزاری کہتے ہیں کہ اس شہید بے نظیر پل کے بننے سے راجن پور اور رحیم یار خان کے درمیان فاصلہ بہت کم ہو گیا ہے۔ شہید بے نظیر پل کے بننے سے ہمارے علاقے میں معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ شہید بے نظیر پل کی تعمیر کا سہرا سابق وزیرمملکت میر دوست محمد مزاری کے سر ہے۔ انکی کاوشوں سے اس پل کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔
سابق وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کے پوتے اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی میر دوست محمد مزاری کہتے ہیں کہ ہماری کوششوں سے گزشتہ دور حکومت میں وزیراعظم گیلانی نے شہید بے نظیر پل کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔
لیگی حکومت نے جان بوجھ کر پل کے دونوں جانب سڑک کی تعمیر میں پانچ سال کی غیر ضروری تاخیر کی۔ عوام نے اس الیکشن میں اس غیر ضروری تاخیر کا بدلہ لیا ہے۔ اب اپروچ روڈ کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے اور چند مہینوں میں پل اور سڑک مکمل طور پر فعال ہو جائے گی۔
مقامی سردار شاہد کریم خان مزاری کہتے ہیں کہ دریائے سندھ پر اس علاقے میں مزید پل بننے چاہیں تاکہ لوگوں کو سفر کرنے میں آسانی ہوگی۔مظفر گڑھ اور راجن پور کے درمیان دریائے سندھ پر بھی پل بننا چاہیے۔ اسی طرح روجھان اور رحیم یار خان شہر کے درمیان بھی پل بننا چاہیے۔
خانوادہ فرید کے فرزند اور سیاسی وسماجی رہنما خواجہ عامر فرید کوریجہ کہتے ہیں، تخت لاہور اور تخت اسلام آباد کے حکمران جان بوجھ کر اس پل کی تعمیر کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ نشتر گھاٹ پر کئی مرتبہ کشتیاں الٹنے سے ہزاروں قیمتی جانوں کا ضیاع تخت لاہور اور تخت اسلام آباد کے حکمرانوں کو ٹس سے مس نہیں کر سکا۔
نشتر گھاٹ دریائے سندھ پر پل کی تعمیر کا مطالبہ نہ صرف عوام کی طرف سے ہوتا رہا بلکہ اس خطے کے شاعروں، ادیبوں، فنکاروں اور دانشوروں نے بھی ہمیشہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس جگہ پر پل کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔
کئی مرتبہ حکمرانوں نے نشتر گھاٹ پر پل بنانے کا اعلان بھی کیا، ان اضلاع کے لوگوں سے ووٹ بھی حاصل کیے مگر بعد میں یہ وعدہ ایفا نہ ہو سکا۔