ضلع ڈیرہ غازی خان میں ایچ آئی وی انفیکشن کی وجہ سے 455 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جس کی بنیادی وجہ بنیادی سہولتوں کا فقدان، بہتر علاج کی کمی اور آگاہی نہ ہونا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں ایڈز کے غیر رجسٹرڈ کیسز کی تعداد سات ہزار جبکہ جنوبی پنجاب میں یہ تعداد پندرہ ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے ان میں سے خواتین کی تعداد 40 فیصد ہے۔
ایڈز کنٹرول سنٹر ڈی ایچ کیو کے انچارج ڈاکٹر ہارون بلال کے مطابق خصوصاً ضلع ڈیرہ غازی خان میں ایڈز  کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ انتہائی تشویشناک ہے۔
ان کے مطابق سال 2017ء میں 19 سو کیسز رجسٹرڈ ہوئے تھے مگر یہ تعداد اس وقت 28 سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایڈز کے رجسٹرڈ  کیسز میں زیادہ تعداد مردوں کی ہے جو 22 سو کے قریب ہے، 508 خواتین ہیں اور 90 بچے اور خواجہ سرا شامل ہیں۔
ڈاکٹر ہارون بلال کا کہنا ہے کہ مذکورہ رجسٹرڈ ایڈز کے مریضوں کا علاج مکمل طریقے سے کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ حکومت پنجاب کی جانب سے ٹیسٹ کی مفت سہولت اور لائف ٹائم علاج کی سہولت بھی دی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر ہارون بلال نے بتایا کہ فی کس مریض کے ماہانہ علاج کا خرچ 80 ہزار روپے ہے جو حکومت پنجاب دے رہی ہے اور اس کے علاوہ مریضوں کا ریکارڈ پوشیدہ رکھا جاتا ہے تاکہ انہیں معاشرتی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے  یہ بھی بتایا کہ حکوت پنجاب نے ایڈز کے مریضوں کے لیے ملتان میں ایک اسپیشل سنٹر بھی قائم کیا ہے۔
 
ایڈز کا علاج زندگی بچانےکے ساتھ ساتھ اسکے وائرس کو آگے پھیلنے سے تحفظ فراہم کرتا ہے جس کے لیے ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایڈز کے مریضوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ "ڈاکٹر ہارون بلال"
"ایڈز کا علاج زندگی بچانےکے ساتھ ساتھ اسکے وائرس کو آگے پھیلنے سے تحفظ فراہم کرتا ہے جس کے لیے ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایڈز کے مریضوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔"
انہوں نے ایڈز کا شکار حاملہ خواتین کے بارے بتایا کہ 91 خواتین جنہوں نے بچوں کو جنم دیا ہے ان میں سے صرف ایک بچے میں ایچ آئی وی وائرس پایا گیا باقی سب محفوظ تھے۔
سائیکالوجسٹ رحمت رضا خان کھوسہ نے بتایا کہ اس وقت ضلع بھر میں ایڈز کے رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد دس ہزار سے بھی زائد ہے۔
"یہاں کے مقامی نوجوان خاصی تعداد میں عرب ممالک میں مزدوری کی غرض سے جاتے ہیں اور واپسی پر متعدد افراد نشہ آور انجکشن کے عادی بنے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزدور طبقہ افراد جو نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں وہ بھی انہی انجکشن کا استعمال کرتے ہیں جو ایڈز کا مرض پھیلنے کی بڑی وجہ ہے۔" 
ایچ آئی وی ایڈز کا شکار مریض نذر حسین جو کوٹ مبارک گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین سال سے اپنی دوائی مستقل طور پر لے رہے ہیں۔
"جب مجھے علم ہوا کہ مجھے ایڈز کا مرض لاحق ہو گیا ہے تبھی میں بہت نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو چکا تھا اور کسی کو بتانا مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ میں ڈر گیا مگر اس الجھن کو ایک طرف رکھ کر علاج شروع کیا۔ اب میں بہتری کی طرف جا رہا ہوں"
دوسرے مریض ارشاد نے بتایا کہ ایڈز کنٹرول سنٹر سے ان کا مفت علاج معالجہ ہو رہا ہے۔
 
صوبہ پنجاب کے ہسپتالوں میں ایڈز آگاہی ڈیسک قائم کرنے جا رہے ہیں جس سے  عوام کو آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ مریضوںکی تشخیص اور علاج بھی کیا جائے گا۔ "حنیف پتافی"
انہوں نے بتایا کہ انہیں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص بیرون ممالک میں ہوئی تھی جسکی وجہ سے ان ملکوں  سے ہمیں ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔
ڈیرہ سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر زرتاج گُل نے اس معاملے پر کہا کہ دراصل علاقے میں ایڈز کے بڑھنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ایچ آئی وی میں مبتلا مرد جان بوجھ کر بھی خواتین سے شادی کر لیتے ہیں کیونکہ ہمیں ایسی بہت ساری شکایات موصول ہوئی ہیں۔
زرتاج گُل نے کہا کہ اس مسئلے کے حوالے سے وفاقی حکومت ایڈز کنٹرول پر مکمل منصوبہ رکھتی ہے اس لیے وہ مرکزی سطح پر اپنے علاقے کے لیے بات کریں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے صحت حنیف پتافی کا کہنا ہے کہ بہت سی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس مرض کے پھیلنے کی بڑی وجہ استعمال شدہ سرنجیں اور نشہ آور ادویات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد پورے صوبہ پنجاب کے ہسپتالوں میں ایڈز آگاہی ڈیسک قائم کرنے جا رہے ہیں جس سے  عوام کو آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ مریضوں کی تشخیص اور علاج بھی فراہم کیا جائے گا۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایڈز کنٹرول سنٹر سے صرف  مذکورہ مریضوں میں سے صرف 84 کو مکمل علاج معالجے کی سہولیات دی جا رہی ہیں۔
ایڈز کنٹرول پروگرام میں صرف پانچ ڈاکٹر کام کر رہے ہیں لیکن ان کی ڈیوٹی دوسرے وارڈز میں بھی ہوتی ہیں۔ عملہ اور ڈاکٹرز کی کمی ہے جسکی وجہ سے مریضوں کا درست طریقے سے علاج نہیں کیا جا سکتا۔
ضلع میں اس وقت تعلیم اور علاج کی بہتر سہولتیں اور آگاہی نہ ہونےکی وجہ سے لوگ ایسے مرض میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں چلے جا رہے ہیں لیکن ارباب اختیار ابھی اس فکر سے بھی دور ہیں۔