
شہر میں جس طرف نظر پڑے کوڑے کرکٹ کا ڈھیر نظر آتا ہے۔
ڈیرہ غازیخان کے مقامی لوگوں میں ایک کہاوت مشہور ہے ’’دیرہ پھُلیں دا سہرا‘‘ (یعنی ڈیرہ پھولوں کا سہرا) اور یہ بات مبالغہ آرائی نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ شہر سے آدھے گھنٹے کی ڈرایؤ پر آپ اپنے من پسند قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ہرے بھرے کھیتوں اور خوبصورت نہری سلسلوں سے مزین ضلع ڈیرہ غازیخان جو دریائے سندھ اور کوہ سلیمان کے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے قدرت نے اسے بہت سی خوبصورتیوں سے نوازا ہے۔
سرسبز لہلہاتے کھیت، بے آب و گیاہ صحرا، آسمان کی رفعتوں کو چھوتے ہوئے پہاڑ اور دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا امانت دار دریائے سندھ ڈیرہ غازیخان کا قدرتی ورثہ ہیں۔ مگرجب ہم ڈیرہ غازیخان شہر میں داخل ہوتے ہیں تو قدرتی رعنایؤں کا یہ سحر ایک سیکنڈ میں ٹوٹ جاتا ہے۔ جس طرف نظر پڑے کوڑے کرکٹ کا ڈھیر نظر آتا ہے۔
گلیاں اور محلے سیوریج کا نظام ناکارہ ہونے کی وجہ سے گندے پانی کے جوہڑ وں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ شہر کی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے اور لوگ تعفن میں جینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ پچھلی تین دہائیوں سے یہ سلسلہ ایسے ہی چلا آ رہا ہے۔
ڈیرہ غازیخان شہر کا کل رقبہ 12 سے 13 مربع میل ہے جسے ماضی میں بہت ہی عمدہ طریقے سے پلان کیا گیا۔ شہر کے وسط میں مختلف بازار ہیں اور انکے چاروں طرف رہائشی بلاک ہیں۔ سڑکیں اور گلیاں کشادہ ہیں۔ شہر کی یونین کونسلز کی تعداد 17 ہے۔ اسلئے انتظامی امور کو بہت احسن طریقے سے سر انجام دیا جا سکتا ہے مگر صورتحال اسکے بر عکس ہے۔
شہر کے اندرونی ایریاز کا حال یہ ہے کہ گلی محلے کوڑا گھر بن چکے ہیں۔ بازاروں میں ناجائز تجاوزات کی بھرمار ہے۔سیوریج سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ آبادی میں ہونے والے اضافے اور نئی رہائشی کالونیوں کی تعمیر سے صورت حال مزید خراب ہو چکی ہے۔

شہر کا سیوریج سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے۔
شہر کے مئیر تحریک عدم اعتماد کا شکار ہو چکے ہیں اور میونسپل کارپوریشن کا عملہ اپنی فرائض کو پس پشت ڈال کر بڑے سرکاری افسروں کے عالیشان بنگلوں میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے میں مصروف ہے۔
یونین کونسلز کے چیئرمینز کا کہنا ہے کہ انکا عہدہ صرف نام کا ہے۔ انکے پاس نا تو ڈیویلپمنٹ فنڈز ہیں اور نا ہی اختیارات لہذا وہ کچھ بھی کرنے سے معذور ہیں۔
ڈیرہ شہر کے مشرقی حصے میں مانکہ کینال بہتی ہے جو کبھی صاف پانی کی نہر ہوا کرتی تھی مگر 1968 میں ڈی جی کینال (جو کہ مانکہ کینال سے بہت بڑی ہے اور ڈیرہ غازیخان شہر کے مغرب میں ہے) بننے کے بعد اسے ایک سیم نالہ میں تبدیل کر دیا گیا اور اب یہ سیم نالہ شہر کی سیوریج کا ڈسپوزل بن چکا ہے۔
بڑے بڑے ڈسپوزل پمپس کی مدد سے شہر کے تمام گٹروں کا گندہ پانی مانکہ کینال میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس تعفن زدہ پانی کو دیہی آبادی ذراعت کے لیے استعمال کرتی ہے۔
کینال کے دونوں کنارے کافی گنجان آباد ہیں۔ مانکہ کینال کا یہ متعفن پانی اسکے کنارے بسنے والی آبادی کے لیے مختلف بیماریوں جیسا کہ ہیپاٹائٹس، ٹائیفایڈ، جلد اور معدے کے امراض کا سبب بنتا ہے۔
یاد رہے کہ ادارہ تحفظ ماحولیات کے مطابق نہروں میں سیوریج کی آمیزش جرم ہے جبکہ یہاں یہ سب اعلی سرکاری افسران کے احکامات کے مطابق ہو رہا ہے۔
مانکہ کینال ڈیرہ غازیخان کے سیاستدانوں کے لیے سفید ہاتھی بن چکا ہے۔ مختلف سیاسی ادوار میں سیاستدان اسے صاف پانی کی نہر میں بدلنے اور اس کے کنارے سبزہ اگانے کا اعلان کرتے ہیں۔

شہر کے اندرونی ایریاز کا حال یہ ہے کہ گلی محلے کوڑا گھر بن چکے ہیں۔
قومی اور مقامی اخبارات میں وزیر صاحب کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں۔ پراجیکٹ کیلئے فنڈز جاری کئے جاتے ہیں اور فقط کاغذی کاروائی کی حد تک مانکہ کینال کو لندن میں بہنے والا دریائے ٹیمز بنا دیا جاتا ہے۔
اگر ڈیرہ غازیخان کی سیاست کے تاریخی منظر نامے کا جائزہ لیا جائے تو سوائے افسوس کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسا شہر جہاں سے منتخب نمائندے گورنر، وزیراعلی اور یہاں تک کہ صدر مملکت جیسے عہدوں پر فائز رہ چکے ہوں۔ اس کا شمار صوبہ پنجاب کے پسماندہ ترین شہروں میں ہوتا ہے۔
حالیہ الیکشن کے باعث مملکت پاکستان کے سیاسی موسم میں آنے والی تبدیلی نے ڈیرہ غازیخان کی سیاسی فضا کو کافی حد تک متاثر کیا۔ ایک بار پھر ضلع ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے والے دو منتخب نمائندگان کو مملکت کی اہم ترین وزارتوں پر فائز کیا گیا ہے۔ اِن میں ایک تو عثمان بزدار صاحب ہیں جنہیں وزیر اعلی پنجاب بنایا گیا اورانکے بارے میں پاکستان کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ انکی متعارف کردہ تبدیلی والے وژن کی مجسم صورت ہیں۔ اور دوسری زرتاج گل وزیر جنہیں وقافی وزیرِ ماحولیات بنا یا گیا ہے۔
عثمان بزدار صاحب نے حال ہی میں بحیثیت وزیراعلی ڈیرہ غازیخان کا پہلا دورہ کیا ہے۔ وزیر اعلی نے سرکٹ ہاؤس میں اراکین اسمبلی اور مقامی شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے ڈیرہ غازیخان شہر کی ترقی اور یہاں کے مکینوں کی خوشحالی کے لئے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا۔
انکا کہنا تھا کہ وہ جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کو لاہور شہر کا ہم پلہ بنانے کا عظم کر چکے ہیں۔ زرتاج گل صاحبہ بھی منتخب ہونے سے پہلے ڈیرہ غازیخان کے لوگوں سے اُنکی تقدیر بدلنے کے وعدے کر چکی ہیں۔ انہیں وزارت کا حلف اُٹھائے تین ماہ ہو چکے ہیں ا ور ڈیرہ شہر کے لوگ اُن وعدوں کے وفا ہونے کے منتظر ہیں۔
علی قائم
علی قائم کا تعلق ڈیرہ غازیخان سے ہے۔ ایک نجی فلاحی ادارے میں بطور سماجی کارکن مختلف فلاحی امور سرانجام دے رہے ہیں۔ سماجی اور معاشرتی مسائل پر لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔