25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے کئی حلقوں میں اعصاب شکن مقابلے دیکھنے کو ملے۔
ان حلقوں میں اُمیدواروں کے درمیان ہار جیت کا مارجن اتنا کم رہا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران کبھی ایک امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں پہنچا تو کبھی دوسرا لیکن ظاہر ہے جیت نے بالآخر کسی ایک کا نصیب ہی بننا تھا۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق پنجاب اسمبلی کی کل 297 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 129، پی ٹی آئی نے 123 اور آزاد امیدواروں نے 30 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔
اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ قاف نے سات، پاکستان پیپلز پارٹی نے چھ اور دیگر جماعتوں نے تین سیٹیں حاصل کیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی کی وہ کون سی 10 نشستیں ہیں جہاں انتہائی سخت مقابلے ہوئے اور ہار جیت کا مارجن سب سے کم رہا۔
پی پی 270 مظفر گڑھ
حالیہ انتخابات میں سب سے سخت مقابلہ صوبائی حلقے پی پی 270 میں ہوا جہاں جیتنے اور ہارنے والے اُمیدواروں کے درمیان صرف دو ووٹوں کا فرق ہے۔
اس حلقے میں آزاد امیدوار عبدالحیی دستی نے 17 ہزار چھ سو 68 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مقابلے میں پاکستان عوامی راج پارٹی کے امیدوار محمد اجمل خان نے 17 ہزار چھ 66 ووٹ  حاصل کیے۔
پی پی 123 ٹوبہ ٹیک سنگھ
اس حلقے میں چھ بار رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے متوفی پیر علی رضا کی صاحبزادی سیدہ سونیا علی رضا پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار تھیں جبکہ ان کے مقابلے میں ن لیگ کی طرف سے پیر قطب علی بابا کو میدان میں اتارا گیا جن کے مریدین کی ایک بڑی تعداد اس حلقے میں آباد ہے۔
حالیہ الیکشن میں سونیا شاہ 53 ہزار 145 ووٹ لے کر کامیاب ہوئی ہیں جبکہ پیر قطب علی کو 53 ہزار 105 ووٹ ملے ہیں۔ یوں اس نشست پر جیت کا مارجن صرف 40 ووٹ رہا۔
پی پی 292 ڈیرہ غازی خان
پنجاب کے جنوبی ضلعے ڈیرہ غازی خان کے صوبائی حلقے پی پی 292 میں پی ٹی آئی کے سردار محمد لغاری اور مسلم لیگ ن کے سردار اویس لغاری کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا جس میں سردار محمد لغاری نے صرف 253 ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی۔
محمد لغاری نے 32 ہزار 423 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مقابلے میں نون لیگ کے سردار اویس لغاری کو 32 ہزار 170 ووٹ ملے۔
پی پی 115 فیصل آباد
فیصل آباد شہر کے علاقے مدینہ ٹاؤن پر مشتمل اس حلقے میں نون لیگ کے رانا علی عباس خان اور تحریک انصاف کے اسد معظم کے درمیان مقابلہ تھا جس میں جیت نے پہلی بار الیکشن لڑنے والے علی عباس کے قدم چومے۔
علی عبا س نے کل 53 ہزار 784 ووٹ حاصل کیے جبکہ سابق ایم پی اے اسد معظم کے حصے میں 53 ہزار 365 ووٹ آئے۔ یوں اسد معظم کو اس نشست پر محض 420 ووٹوں کے فرق سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
پی پی 81 سرگودھا
اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری افتخار حسین نے کل 41 ہزار 300 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مقابلے میں نون لیگ کے امیدوار سید جاوید حسنین کو 40 ہزار 510 ووٹ ملے۔ یوں نون لیگ کے اُمیدوار 790 ووٹوں کے فرق سے یہ سیٹ ہار گئے۔
واضح رہے کہ ضلع سرگودھا پنجاب کے اُن چند اضلاع میں شامل ہے جہاں حالیہ انتخابات میں نون لیگ کے اُمیدواروں کو قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست پر شکست نہیں ہوئی تاہم انھوں نے صوبائی اسمبلی کی نشستیں ضرور گنوائی ہیں۔
پی پی 102 فیصل آباد
فیصل آباد کی تحصیلوں تاندلیانوالہ اور سمندری کے علاقوں پر مشتمل اس صوبائی حلقے میں تحریکِ انصاف کے عادل پرویز اور نون لیگ کے سکندر حیات جتوئی کے مابین سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔
تحریک انصاف کے عادل پرویز نے 37 ہزار 929 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مقابلے میں نون لیگ کے سکندر حیات کو 36 ہزار 867 ووٹ ملے یوں عادل پرویز نے یہ نشست صرف ایک ہزار 62 ووٹوں سے اپنے نام کر لی۔
سیاسی ماہرین کے مطابق دیہی علاقوں پر مشتمل ہے اس حلقے میں برادری ازم کی بنیاد پر ووٹ لینے اور دینے کا رجحان پایا جاتا ہے گجر برادری سے تعلق رکھنے والے عادل پرویز نے چونکہ مختلف برادریوں کو اپنے ساتھ ملایا لہذا جیت اُن کے حصے میں آئی۔
پی پی 52 گوجرانوالہ
ضلع گوجرانوالہ میں اس بار بھی نون لیگ کی جیت کی روایت برقرار رہی۔ اس ضلعے میں نون لیگ نے قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست نہیں۔ صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 52 پر نون لیگ اور تحریکِ انصاف کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ ہوا۔
یہاں سے نون لیگ کے چوہدری عادل بخش چٹھہ کو 55 ہزار 710 ووٹ ملے جبکہ ان کے مدِ مقابل پاکستان تحریک انصاف کے محمد احمد چٹھہ کے حصے میں 54 ہزار 557 ووٹ آئے۔ یوں احمد چھٹہ کو 11 سو  13 ووٹوں کے معمولی فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پی پی 268 مظفر گڑھ
اس حلقے میں نون لیگ کے نامزد کردہ اُمیدوار ملک غلام قاسم ہنجرا 30 ہزار 432 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار رانا اورنگزیب نے 29 ہزار 251 ووٹ حاصل کیے۔
یوں ملک غلام قاسم ہنجرا اور رانا اورنگزیب کی ہار جیت کے درمیان صرف 11 سو 81 ووٹوں کا فرق رہا۔
پی پی 74 سرگودھا
حالیہ انتخابات میں اس حلقے سے کل سات امیدواروں نے انتخاب میں حصہ لیا تاہم یہاں نون لیگ اور تحریکِ انصاف کے اُمیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو ملا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق نون لیگ کے میاں مناظر حسین 51 ہزار 269 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار محمد انصر اقبال نے 50 ہزار 84 ووٹ حاصل کیے۔ یوں تحریکِ انصاف کے اُمیدوار کو محض 11 سو  85 ووٹوں کے معمولی فرق سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
پی پی 131 ننکانہ صاحب
اس حلقے سے کل 13 امیداروں نے انتخاب میں حصہ لیا تاہم یہاں بھی مسلم لیگ نون اور آزاد اُمیدوار کے درمیان کڑا مقابلہ ہوا۔ نون لیگ کے میاں اعجاز حسین بھٹی نے 37 ہزار 86 ووٹ حاصل کیے اور کامیاب قرار پائے جبکہ کی ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار شازیہ چیمہ کو 35 ہزار 847 ووٹ ملے۔
نتیجاً شازیہ چیمہ کو اس حلقے میں صرف 12 سو 39 ووٹوں سے شکست ہوئی۔ واضح رہے کہ اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدوار طارق سعید گھمن 31 ہزار 722 ووٹ حاصل کر کے تسیرے نمبر پر رہے۔